تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 533
ہو فضل تیرا یا رب یا کوئی ابتلاء ہو ، راضی ہیں ہم اُسی میں جس میں تیری رضا ہو سینہ میں جوش غیرت اور آنکھ میں کیا ہو ، لب پہ ہو ذکر تیرا دل میں تیری وفا ہو مٹ بھاؤں میں تو اس کی پروا نہیں ہر کچھ بھی ، میری فنا سے حاصل گر دین کو بقا ہو شیطان کی حکومت مٹ جائے اس جہاں ، حاکم تمام دنیا پر میرا مصطفے ہو محمود عمر میری کٹ جائے کاش یونہی ، ہو رُوح میری سجدہ میں سامنے خدا ہو اس پر معارف نظم کی تقریب یہ پیدا ہوئی کہ مکرم مولوی ابا العطاء صائب نے ۵ ارشہادت اپریل پیش کو حضرت امیرالمومنین کی خدمت میں مسجد مبارک کی سیڑھیوں کے پاس عرض کیا کہ حضور" فرقان " کے لئے کو ئی تازہ تنظیم عطا فرمائیں تھوڑی دیمہ کے بعد حضور انور گھر سے واپس تشریف لائے اور اپنے دست مبارک سے یہ تازہ کلام عنایت فرمایا۔اعلان مصلح موعود کے معابعد علمی اعتبار سے ایک اہم ترین ضرورت یہ محسوس کی گئی اکہ مصلح موعود کے تازہ نشانِ رحمت کے متعلق مرکز کی علامت سے ضروری لٹریچر شائع ظهور صلح موعود" کتاب کیا جائے۔اس تعلق میں سب سے پہلی کتاب مولوی شریف احمد صاحب امینی مدرس، مدرسہ احمدیہ قادیان نے ظہور مصلح موعود کے نام سے شائع کی جس کا دیباچہ حضرت مولوی شیر علی صاحب نے نے لکھا اور نظر ثانی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے فرمائی۔حضرت مصلح موعود کے دعوئی کے بعد حضرت خلیفہ مسیح الاول ست خفیف اول کی ایک حیرت انگیز پیشگوئی اس عورت کا مال موی کی اس عظیم الشان پیشگوئی کا انکشاف ہوا کہ مصلح موعود کم کمبر کا انکشاف میاں عبد المنان صلح بے کے ذریعے ۹۱۲ائر سے تیس سال بعد ظاہر ہو گا۔یہ اہم شہادت سلسلہ احی کے لڑ پھر میں سر سے پہلے جناب میاں عبد المنان صاحب تم ایم۔اے نے شائع کی چنانچہ انہوں نے رسالہ " فرقان زماہ رش میں نشان صداقت " کے عنوان سے ایک مفصل اداریہ سپرد قلم کیا جس میں لکھا :- حضرت خلیفة أمسیح الا قبیل رضی اللہ عنہ نے یکم رسم پر اللہ کو بعد نماز عصر سورہ اعراف کی آیت ونقد اخَذْنَا ألَ فِرْعَوْنَ بِالسنين۔۔۔الخ کا درس دیتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضر موسی سے فتوحات کے دورے کئے تھے لیکن قوم کی نافرمانی کی وجہ سے وہ چالیس برس پیچھے ڈال دیئے گئے اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی اللہ تعالیٰ نے وعدے کئے ہیں اور ضرور ماه سال مبلغ سلسلہ احمدیہ بھارت :