تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 530
۵۱۱ (1) اُس نوجوان کا حضرت خلیفہ ایسیح ایدہ اللہ کے مکان پچہ اور اس کے بلند ترین حصہ میں نظر آتا جس میں حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے وجود کی طرف اشارہ تھا۔(۲) اُس کا اپنا نام " خلیفہ صلاح الدین ظاہر کرنا جو ان الفاظ کا لفظی ترجمہ ہے کہ وہ مصلح موعود جو حضر میسج موعود کا خلیفہ بھی ہے۔اور سب جانتے ہیں کہ حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کا بعینہ یہی دعوتی ہے۔(۳) اس کا آہستگی اور اختفاء کے رنگ میں بولنا گویا کہ ابھی پورے انکشاف اور اعلان کا وقت نہیں آیا تھا۔(۴) اس کا میرے سوال کے جواب میں عربی زبان میں " نعم " کہنا جو عین حضرت خلیفہ امسیح ایک اللہ کے اُس رویاء کے مطابق ہے جس میں آپ نے اپنے آپ کو عربی میں گفتگو فرماتے دیکھا ہے۔(۵) میرا اُسے یہ الفاظ کہنا کہ ” بڑی دیر سے آئے ہو مصلح موعود کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے ان الہامی الفاظ کا لفظی ترجمہ ہے کہ " دیمہ آمدہ " پس یہ ایک واضح خواب تھی جو خدا تعالے نے مجھے آج سے قریباً دو سال قبل دکھائی اور اس خواب کی شہادت اس بات سے اور بھی زیادہ قوی ہو جاتی ہے کہ جب میں نے یہ خواب دیکھی اُس وقت نہ میرے خیال میں یہ آیا کہ یہ خواب مصلح موعود کے متعلق ہے اور نہ ہی ان لوگوں کا خیال اس طرف گیا جنہیں میں نے یہ خواب سنائی۔بلکہ مجھے تو یہ خواب بھی بھولی ہوئی تھی جو دو سال بعد بعض عزیز وں کے یاد دلانے سے یاد آئی۔مگر میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے آج سے دو یا سوا دو سال قبل یہ خواب دیکھی اور گو اس کا کوئی لفظ حافظہ کی غلطی سے بدل گیا ہو مگر مفہوم اور حقیقت بالکل ہی تھے اور اہم الفاظ بھی یہی ہے۔جماعت احمدیہ کے اہل قلم بزرگوں اور دوستوں نے اس نئے مرحلہ پر جبکہ بارات اہل قلم بزرگوں کی خدمات احمدیہ ایک انقلابی دور میں داخل ہو رہی تھی، پیشنگوئی مصلح موعود کے مختلف پہلوؤں پر بہت قیمتی اور عمدہ اور سیر حاصل مضامین لکھے جو اخبار الفضل"، رسالہ ” فرقان" اور رسالہ " ریویو آف دیلیمیز میں شائع ہوئے۔ان مضامین سے جماعت کے ہر طبقہ کو اس پیشگوئی کے پس منظر اس کی عظمت و اہمیت اور مقاصد کے سمجھنے میں بھاری مدد ملی۔بعض مضمون نگار بزرگوں اور دوستوں کے اسماء گرامی درج ذیل کئے جاتے ہیں :- حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ، حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب مولانا ابوالعطاء صاحب اخواهر ل رساله فرقان " با بست ماه شهادت / اپریل به بیش صفحه - به بیش صفحه ۰۹-۱+