تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 517 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 517

٤٩٨ ہے۔وانا المسيح الموعود مشِيلُهُ وَخَلیفتہ اور میں بھی مسیح موعود ہوں یعنی اُس کا مثیل اور اُس کا خلیفہ ہوں۔تب خواب میں ہی مجھ پر ایک رعشہ کی سی حالت طاری ہو جاتی ہے۔اور میں کہتا ہوں کہ میری زبان پر کیا بھاری ہوا؟ اور اس کا کیا مطلب ہے کہ میں مسیح موعود ہو ہے اس وقت معا میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ اس کے آگے جو الفاظ ہیں کہ مشیلہ میں اس کا نظیر ہوں وخلیفتہ اور اُس کا خلیفہ ہوں۔یہ الفاظ اس سوال کو حل کر دیتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام کہ وہ حسن و انسان میں تیرا نظیر ہوگا اس کے مطابق اور اُسے پورا کرنے کے لئے یہ فقرہ میری زبان پر بھاری ہوا ہے اور مطلب یہ ہے کہ اس کا مثیل ہونے اور اس کا تخلیفہ ہونے کے لحاظ سے ایک رنگ میں میں بھی مسیح موعود ہی ہوں کیونکہ جو کسی کا نظیر ہوگا اور اس کے اخلاق کو اپنے اندر لے لیگا وہ ایک رنگ میں اس کا نام پانے کا مستحق بھی ہوگا۔پھر میں تقریر کرتے ہوئے کہتا ہوں نہ وہ میں ہوں جس کے ظہور کے لئے اُنہیں سو سال سے کنواریاں منتظر بیٹھی ہیں۔اور جب میں کہتا ہوں میں وہ ہوں جس کے لئے انہیں سو سال سے کنواریاں اس سمندر کے کنارے پر انتظار کر رہی تھیں تو میں نے دیکھا کہ کچھ نوجوان عورتیں اور ہو سات یا تو ہیں۔بعین کے لباس صاف ستھرے ہیں۔دوڑتی ہوئی میری طرف آتی ہیں۔مجھے السلام علیکم کہتی اور اُن میں سے بعض برکت حاصل کرنے کے لئے میرے کپڑوں پر ہاتھ پھیرتی جاتی ہیں اور کہتی ہیں ” ہاں ہاں ہم تصدیق کرتی ہیں کہ ہم انہیں سو سال سے آپ کا انتظار کر رہی تھیں" اس کے بعد میں بڑے زور سے کہتا ہوں کہ میں وہ ہوں جسے علوم اسلام اور علوم عربی اور اس زبان کا فلسفہ ماں کی گود میں اس کی دونوں چھاتیوں سے دودھ کے ساتھ پلائے گئے تھے۔رویاء میں جو ایک سابق پیشگوئی کی طرفف مجھے تو یہ دلائی گئی تھی۔اس میں یہ بھی خبر تھی کہ جب وہ موعود بھاگے گا تو ایک ایسے علاقہ میں پہنچے گا یہاں ایک جھیل ہوگی اور جب وہ اس جھیل کو پار کر کے دوسری طرف جائے گا تو وہاں ایک قوم ہوگی جس کو وہ تبلیغ کرے گا اور وہ اس کی تبلیغ سے متاثر ہو کہ مسلمان ہو جائے گی تب وہ دشمن جس سے وہ موعود بھاگے گا اس قوم سے مطالبہ کرے گا کہ اس شخص کو ہمارے حوالے کیا جائے مگر وہ قوم انکار کر دے گی اور کہے گی ہم لڑ کر مر جائیں گے مگر اسے تمہارے حوالے نہیں کریں گے بچنا نچہ خواب میں ایسا ہی ہوتا ہے۔جرمن قوم کی طرف سے مطالبہ ہوتا ہے کہ تم ان کو ہمارے حوالے