تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 31
رنگ میں ترقی کی ہے۔۳۱ حضرت مولوی صاحب کی پشاور کی حضرت میرزا بشیر احد صاحبت کا منشار تھا کہ اب حضرت مودودی محبت صاحب قادیان ہی میں رہیں اور وہ بھی یہاں رہنے میں خوش طرف واپسی اور قادیان کی طرف جیب سے کم آپ کے رویوں کی طرف سے تا کہ واپس بشور تھے مگر عزیزوں سے تقاضا آجائیں مگر آپ کے مشورہ سے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے انہیں لکھ دیا کہ اب انہیں خدمت کا موقع ملنا چاہئیے البتہ کبھی مناسب وقت پر حسب ضرورت عارضی طور پر پشاور جانے کا انتظام ہو تو اور بات ہے " خود انتضرت مولوی صاحب نے یہ ارادہ فرمایا کہ محرم کی چھٹیوں میں کچھ عرصہ کے لئے پشاور واپس تشریف لے جائیں اور اسی غرض کے لئے اُن کے صاحبزادہ عبد الرحمن صاحب قادیان آگئے اور حضرت مولوی صاحب قریباً دو ماہ تک قادیان کی برکات سے متمتع ہونے کے بعد در تبلیغ فروری ان کو بذریعہ مو ٹر پشاور روان / ۲۱۹۴۰ ہو گئے اور اگلے روز بخیریت پشاور پہنچ گئے۔اس سفر میں صاحبزادہ عبد الرحمن صاحب کے علاوہ محترم ملک محمد عبد اللہ صاحب مولوی فاضل بھی آپ کے ہمراہ تھے تجھے حضرت مولوی صاحب نے پشاور پہنچتے ہی یہ جد و جہد شروع کر دی کہ کسی طرح دوسرے بچھڑے ہوئے غیر مبائع اصحاب بھی سلسلہ احمدیہ کے اتحاد کی خاطر نظام خلافت سے وابستہ ہو جائیں بچنا نچہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے انہی دنوں قاضی محمد یوسف صاحب کے نام ۲۶ تبلیغ نر فروری اس میں کو ایک مکتوب میں اطلاع دی کہ 190 " جو خط آج میرے نام حضرت مولوی صاحب کا آیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں کامل انشراح ہے۔اور وہ اپنے دوستوں میں بھی اس بات کی کوشش فرما رہے ہیں کہ وہ ادھر کھینچے آئیں۔مگر جیسا کہ مولوی صاحب تحریر فرماتے ہیں چھبیس سال کی دوری کی وجہ سے بعض لوگوں کے ذہنوں میں ایک رنگ کی تاریکی آگئی ہے جو اب خاص کوشش سے ہی نکلے گی " سے دادین کے الفاظ تیر کا حضرت قمر الانبیاء صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے ایک مکتوب سے اخذ کئے گئے ہیں (۲۲) تبلیغ / فروری پیش بنام قاضی محمد یوسف صاحب احمدیه مسجد پیشاور ) : ۱۳۱۹ t صلح ل مكتوب حضرت قر الانبیاء صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب بنام قاضی مهر یوسف صاحب پشاور موره شی الفضل ۲۰ فروری تبلیغ سایش صفحه ۲ * 191