تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 30 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 30

آخر میں جناب مولوی محمد علی صاحب (امیر احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور) کو یہ دردمندانہ تحر یک فرمائی کہ اگر ان کو بعض مسائل میں شرح صدر نہیں تو پھر بھی آپ اختلافات کو حوالہ بخدا کرتے ہوئے مرکز کے ساتھ پیوند کرلیں۔چنانچہ لکھا:۔" میں دیانتداری کے ساتھ یہ ظاہر کر چکا ہوں کہ مجھے ابھی تک بعض مسائل میں حضرت خلیفہ ثانی ہے اختلاف ہے۔لیکن باوجود اس قلیل اختلاف کے ہیں اُن کے اصول کے مطابق اور اپنی ضمیر سے ہدایت لینے کے بعد خدا کی قولی اور فصلی شہادت کو دیکھ کر اُن کی بیعت میں داخل ہوا ہوں۔۔۔۔حضرت خلیفہ ثانی تو مامور نہیں ہیں۔حضرت مسیح موعود نے بھی جو مامور اور مرسل تھے نواب محمد علی خاں صاحب کو بعض اختلافات کے باوجود بعیت کی اجازت دی تھی حالانکہ نواب صاحب شیعہ خیالات رکھتے تھے۔تو پھر میرے معاملہ میں یہ صورت کس طرح قابل اعتراض ہو سکتی ہے اور اس کی بناء پر اعتراضات اٹھانا کس طرح بھائی سمجھا جا سکتا ہے بلکہ میں بڑی ہمدردی اور خیر خواہی کے ساتھ مولوی محمد علی صاحب سے بھی تحریک کروں گا کہ اب جبکہ وہ بھی اپنی آخری عمر میں پہنچ رہے ہیں وہ اپنا محاسبہ کر کے اس بات پر غور فرمائیں کہ کیا جماعت کا اتحاد اور وحدت کی برکات اور خدائی نصرتوں سے مستفید ہونے کے مواقع اس قابل نہیں کہ اپنے بعض اختلافی عقائد کے باوجو د جماعت کے ایک جھنڈے کے نیچے جمع ہونے دیا جائے۔مولوی محمد علی صاحب کے جذبات خواہ میرے متعلق کچھ ہوں ، میری ہمدردی اور نیک نیتی صرف اسی ایک بات سے ظاہر ہے کہ جب بیعت کے بعد میں نے حضرت خلیفہ ثانی سے پہلی ملاقات کی تو اس ملاقات میں میں نے حضرت خلیفہ صاحب سے مولوی صاحب کی ہدایت کے متعلق خصوصیت کے ساتھ دعا کے لئے عرض کیا تھا اور میں خود بھی دُعا کرتا ہوں کہ خدا تعالے مولوی صاحب کو پھر مرکزی سلسلہ کے جھنڈے کے نیچے لے آئے اور الوصیت کے منشاء کے ماتحت سب کو مل کر کام کرنے کی توفیق دے اے قادیان کے قیام کے دوران میں حضرت مولوی صاحب نے بیعت کے بعد انشراح و انبساط کے معاملہ میں بہت جلد مجلد ترقی کی خود اپنی خوشی سے وصیت بھی کر دی اور اس کے بعد طوعا چندہ تحریک جدید میں بھی شرکت فرمائی حضرت مولوی صاحب کو یہ بہت خوشی تھی کہ حضرت خلیفہ ثانی کے عہد میں جماعت نے ہر " الفضل" ۱۳ تبلیغ ۳۱ منیش / ۱۳ فروری ۱۹۴۰ صفحه ۰۶۰۵