تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 494
یہ بھی ایک روایت ہے کہ مسیح (موعود ) کے وفات پانے کے بعد اُس کی بادشاہت ریعنی آسانی بادشاہت) اس کے فرزند اور پھر اس کے پوتے کو ملینگی " اس ابتدائی شہر کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی حدیث فَيَتَزَوَّجُ رَيُولَهُ لَهُ میں امت مسلہ کو دوبارہ مصلح موعود کی بشارت دی۔اور پانچویں صدی ہجری کے شامی بزرگ حضرت امام یحیی بن عقب رحمۃ اللہ علیہ نے خدا سے اطلاع پا کر کھلے لفظوں میں پسر موعود کے نام تک کی خبر دے دی۔چنانچہ رہ فرماتے ہیں : دو حُمُودُسَـ سيطه بعد هذا وَ يَمْلِكُ الشَّامَ بِلا قتال یعنی مسیح مولود اور ایک عربی النسل انسان کے بعد محمود ظاہر ہوگا اور ملک شام کو کسی (مادی) جنگ کے بغیر فتح کرے گا۔اس شامی بزرگ کے علاوہ ہندوستان کے مشہور ولی حضرت شاہ نعمت اللہ حمہ اللہ علیہ اپنے شہرہ آفاق الہامی تعمیرہ میں پیشگوئی فرمائی کہ دور او چون شود تمام بکام پرسش یادگار می بینم و یعنی " جب مسیح موعود کا زمانہ کامیابی کے ساتھ گذر جائے گا تو اس کے نمونہ پر اس کا لڑکا یادگار رہ جائے گا۔یعنی مقدر یوں ہے کہ خدائے تعالے اس کو ایک لڑکا پارسا دے گا جو اس کے نمونہ پر ہوگا اور اس کے رنگ میں رنگین ہو جائے گا اور وہ اس کے بعد اس کا یاد گار ہوگیا ہے ہے اب چونکہ ان خدائی نوشتوں کے ظہور کا وقت آپہنچا تھا اس لئے جناب الہی کی طرف سے سفر ہوشیار پور سی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جنوری ماہ میں حصول نشان کیلئے ہوشیار پورے میں خلوت گزیں ہو کر دعائیں کرنے کا حکم ملا اور الہام ہوا کہ تمہاری عقدہ کشائی ہوشیار پور میں ہوگی۔مله " مشكوة " مجتبائی باب نزول عیسی بن مریم صفحه ۲۰۰ باب نزول عیسی علیه السلام لا شمس المعارف الكبرى" مصری صفحه ۳۴۰ * له "الحسين في احوال المهيد مين " مؤلفہ حضرت سید اسمعیل شہید کے یہ ترجمہ سیدنا انسیح الموعود کے مسلم مبارک ہے (ملاحظہ ہو نشان آسمانی صفحه ۲ طبع اول ) + شه سیرۃ المہدی حصہ اول صفحه ۶۹ مرتبہ حضرت قمر الانبیاء صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب)