تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 29 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 29

۲۹ اشاعت کوئی فیصلہ کن امر نہیں ہے۔کیونکہ قرآن مجید کے ترجمے اور تفاسیر تو بعض غیر مسلموں نے بھی شائع کئے ہیں۔اور دوسری طرف قادیان کی جماعت کی طرف سے بھی نہایت عمدہ لٹر پھر شائع ہو رہا ہے اور قرآنی علوم کی اشاعت کا سلسلہ بھاری ہے اور خدا نے چاہا تو تفسیر کی صورت میں بھی ترجمہ قرآن کریم کی اشاعت ہو جائے گی، مگر جس بات کو میں نے لیا ہے وہ مخدا تعالے کی فعلی شہادت ہے جو نصرت اور تائید الہی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے جس کی وجہ سے مولوی محمد علی صاحب کے رفقاء تواب بھی اسی جگہ کھڑے ہیں جس جگہ وہ آج سے چھبیس سال پہلے کھڑے تھے بلکہ شاید لبعض لحاظ سے گر گئے ہیں۔مگر مرکزی جمجمت کو اللہ تعالیٰ ہر رنگ میں ترقی دے رہا ہے اور یہ ومند کر رہا ہے۔تیسری وجہ: میری بیعت کی یہ ہوئی ہے کہ میری توجہ اس طرف مبذول ہوئی کہ اسلام کا یہ منشار ہے کہ باوجود اختلاف رکھنے کے انسان کو چاہیئے کہ وہ جماعت میں منسلک ہو کہ رہے بچنا نچہ حضور نے فرمایا ہے۔اِتَّبِعُوا سَوَادَ الْأَعْظَم نیز فرمایا تَلْزِمُ الْجَمَاعَة - مولوی محمد علی صاحب کا یہ کہنا ، کہ میں قادیان میں جا کر کثرت سے مرعوب ہو گیا ہوں ، خوش نہی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔کیونکہ جو دلائل میری بیعت کے ہیں وہ تین اور واضح ہیں۔جن میں کسی بات سے مرعوب ہونے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ضمنا ئیں یہ بات بھی کہنا چاہتا ہوں کہ مولوی محمد علی صاحب نے جو اصول کثرت اور قلت کے متعلق بیان کیا ہے اس میں اُن کو سخت غلطی لگی ہے۔قرآن شریف کے جس اصول کو انہوں نے جماعت کی اندرونی حالت پر لگایا ہے وہ مرسلین کے ماننے والوں اور انکار کرنے والوں کے باہمی مقابلہ سے تعلق رکھتا ہے نہ کہ ایک امور کی جماعت کے اندرونی اختلافات سے۔اگر مولوی صاحب کے اصول کو اس قدر وسعت حاصل ہے جو مولوی صاحب نے بیان کی ہے تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ ہر حال میں ہر کثرت ہر قلت کے مقابل پر غلطی خوردہ ہوتی ہے جو بالبداہت باطل ہے۔مثلاً کیا مولوی صاحب اس بات کو ماننے کے لئے تیار ہیں کہ ان کی انجین میں ہر فیصلہ قلت رائے سے ملے پانا چاہیے۔یا یہ کہ صحا نے جو فیصلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات پر کثرت رائے سے ایک مخلیفہ کے انتخاب کے متعلق کیا۔اس کے مقابل پر بعض انصار کی یہ قلت رائے درست تھی کہ دو خلیفے ہونے چاہئیں؟ مجھے افسوس ہے کہ جو نتیجہ مولوی صاحب نے قرآن شریف کی آیات سے نکالا ہے وہ ایک سطحی خیال سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔" اے 190 الفضل " ۱۳ تبلیغ ساله اش / ۱۲ فروری 2 +