تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 472
مستجاب الدعوات اور صاحب رویا، وکشف بزرگ تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کی بیعت لینے کے بعد فرمایا " اللہ تعالے جلد جماعت پیدا کر دے گا چنانچہ یہ پیشگوئی حرف بحرف پوری ہوئی اور کچھ ماہ کے اندر کہ پیام میں مضبوط جماعت بن گئی جو ۲۹ نومبر ۱۹۳۶ء کوتین سو پندرہ نفوس تک اور شائر میں قریباً پانچسونک پہنچ گئی۔آپ نے گردو نواح میں بھی تبلیغ کا حق ادا کر دیا۔آپ کو قصبہ راہوں کے چودھری فیروز خاں صاحب، اور کا ٹھ گڑھ کے مولوی عبدالسلام صاحب جیسے پُر جوش رفقاء مل گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ اسلام ہی کے مبارک زمانہ میں کو یام ، راہوں ، کاٹھ گڑھ ، سروعہ ، لنگڑوعہ ، کریم پور ، بنگه ، پنام ، مکند پور، کھلویہ اور لنگیری وغیرہ مقامات پر مخلص احمدی جماعتیں قائم ہو گئیں۔" حضرت مسیح موعود علیہ السّلام نے تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۹۶ پر اپنے ایک عظیم الشان نشان کے گواہوں میں آپ کا نام پچاسویں نمبر پر درج فرمایا ہے۔آپ اُن سابقون الاولون میں سے تھے جنہوں نے حضور کے عہد مبارک میں (۲۹ دسمبر نشانہ کو) وصیت کر کے اپنا حصہ جائے او حق صدر انجمن احمدیہ قادیان ہبہ کر کے قبیصہ بھی دے دیا تھا کہ حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے کئی بار اپنے خطوط میں آپ کو لکھا کہ مجھے آپ سے بہت محبت ہے۔ایک بار موضع کریم پور ضلع بھالندھر) کے احباب حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضور نے اُن کو نصیحت فرمائی کہ آپ لوگ بار بارہ قادیان آتے رہیں تا ایمان تازہ رہے۔انہوں نے اپنی مجبوریاں پیش کیں۔اس پر فرمایا۔اچھا اگر قادیان نہ آسکو تو حاجی غلام احمد صاحب کے پاس کر یام ہو آیا کرو" کے حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ساتھ غایت درجہ محبت تھی اور حضور کی ہر تحریک پر ابتداء ہی میں پر جوش رنگ میں شمولیت سے انہیں خاص روحانی سرور حاصل ہوتا تھا۔فرض اور طلوعی ہر قسم کے چندوں میں نمایاں حصہ لیتے۔اور مالی اور جانی قربانیوں پیش پیش رہتے تھے۔اور اغراض سلسلہ کی تکمیل کے لئے شبانہ روز مصروت رہتے۔تبلیغ میں انہاک کا یہ عالم تھا کہ آپ نے جماعت کے بام کو دس حصوں میں تقسیم کر کے ان کے امیروند مقرر کر رکھے تھے۔ہر گروہ آپ کی زیر نگرانی تبلیغ کے لئے باہر جاتا تھا۔حلقہ تبلیغ ارد گرد کا پانچ میل تک کا علاقہ ہوتا نے اصحاب احمد جلد دہم صفحه ۹۶ ( مولفہ جناب ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے قادیان سے " الفصل" ۴۳ار جوان له صفحه ( روایات حضرت حاجی صاحب) سے " اصحاب احمد » جلد دهم صفحه ۹۹ حاشیه و صفحه ۱۲۴ شه " اصحاب احمد چند دهم صفحه ۱۲۷ (حاشیه)۔&