تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 466
۴۵۵ حضرت میر محمد اسحاق صاحب اگلے سال ارامان / مادر میش کو انتقال فرما گئے جس پر حضور نے مبران افتاء کمیٹی میں حضرت مولانا غلام رسول صاحب را یکی اور مولانا عبد الرحمن صاحب فاضل (جت) کا اضا فرما دیا۔اور کمیٹی کے صدر حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب اور سیکرٹری مولانا ابو العطاء صاحب مقررہ کئے گئے بے ر احسان جون بش کو حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب کا وصال ہو گیا۔اور حضرت خلیفہ السیح الثانی المصلح الموعود کے حکم سے ملک سیف الرحمن صاحب واقف زندگی تحریک بدید اس اہم منصب پر ممتاز ہوئے اور اب تک مفتی سلسلہ کے فرائض بجا لا ر ہے ہیں۔ملک سیف الرحمن صاحب مفتی سلسلہ احمدیہ کی رپورٹ پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعود نے ماہ نبوت نومبر ہی میں افتاء کمیٹی کا از سر نو قیام مجلس افتار" کے نام سے فرمایا۔جس کے ابتدائی فرائض قواعدیہ قرار پائے :- فتوی کی غرض سے دختر افتاء میں آمدہ اہم مسائل کے بارہ میں مفتی سلسلہ عالیہ احمدیہ کو مشورہ دینا۔نفقہ اسلامیہ کے اہم اختلافی مسائل کے متعلق آئمہ فقہ کی آراء اور اُن کے دلائل سے واقفیت حاصل کرنا۔اس سلسلہ میں ہر ممبر کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ اپنے مطالعہ کے نتائج اور اس بارہ میں اپنی ذاتی رائے سے دفتر افتاء کو وقتاً فوقتاً مطلع کرتا رہے۔-۲- سیاسی، تمدنی اور تاریخی حالات کی روشنی میں ” علم الخلاف " کا مطالعہ خصوصی دختر افتاء کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ ہر اہم فتویٰ کے متعلق مجلس کے کم از کم تین ممبر ان کا مشورہ حاصل کرے لیکن مفتی سلسلہ اس مشورہ کو قبول کرنے پر مجبور نہیں ہونگے۔البتہ اگر مجلس کے تمام ممبران متفق الرائے ہوں اور مفتی سلسلہ کو پھر بھی اس سے اختلاف ہو۔تو اس صورت میں دختر افتاء پر واجب ہوگا کہ وہ تمام حالات حضرت خلیفتہ اسی کی خدمت اقدس میں تحریر کرکے اس کے متعلق آخری فیصلہ حاصل کرے لینے حضرت سیدنا المصلح الموعود نے مجلس افتاء کے اولین میر مندرجہ ذیل علماء سلسلہ کو مقرر فرمایا -1- مولانا جلال الدین صاحب شمس ناظر تالیف و تصنیف له " الفضل ۲۴۰ سی انٹی ة الفضل" ، نبوت انو میری پیش صفحه ۲ کالم ۰۲