تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 464 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 464

۴۵۳ سے ناواقفی کی بات ہے۔بعض اوقات انسان بات کا مطلب غلط سمجھ لیتا ہے مگر اس وجہ سے اُسے غیر مستند نہیں کہا جا سکتا۔غیر مستند اور ناقابل اعتبار اُسے کہا جاتا ہے جو غلط طریق اختیار کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اور سمجھ دی ہے۔اگر کوئی ایسی بات کسی روایت میں ہو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پھلین اور کیریکٹر کے خلاف ہو ، آپ کی عام تعلیم کے خلاف ہو تو ہم کہ سکتے ہیں کہ راوی کو غلطی لگی ہے۔یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ غیر مستند ہے۔تو انسان کو اس علم کے بارے میں جیسے وہ جانتا نہیں بات کرتے وقت بہت احتیاط کرتی چاہیے۔ایسی بات کرنے والا شخص عظیم تاریخ سے قطعاً نا واقف ہے۔تاریخ کا علم بڑا پیچیدہ علم ہے۔کسی تاریخی بات کو سمجھنے کے لئے اس زنجیر کو سمجھنا بھی ضروری ہوتا ہے جس سے وہ بات چلتی ہے۔اگر کوئی شخص کسی دوسرے علم میں دسترس رکھتا ہے تو اس کے یہ معنے نہیں کہ وہ تاریخ کے علم کا بھی ماہر ہے۔ایک بڑے سے بڑے فلاسفر کا ڈاکٹری کے علم میں ماہر ہونا ضروری نہیں۔اسی طرح ایک بڑے سے بڑا ڈاکٹر ا زنا فلاسفہ نہیں ہو سکتا۔اور جس علم سے واقفیت نہ ہو اس میں دخل دینا غلط طریق ہے اور ایسی باتیں کرنا آداب کے خلاف ہے۔میں بھی یہ مانتا ہوں کہ مفتی صاحب کی روایات میں غلطی ہو سکتی ہے۔اور اگر کہنے والے کے علم میں ایک بات غلط ہے تو ممکن ہے میرے نزدیک دس باتیں غلط ہوں لیکن اس کے باوجود ان لوگوں کی تمدمات اور اُس احسان میں جو تاریخ لکھ کر انہوں نے جماعت پر کیا ہے ، کوئی فرق نہیں آسکتا۔غلطیاں شاید میں دوسروں سے زیادہ جانتا ں مگر اُن کی بناء پر ان کو نا قابل اعتبار قرار نہیں دیا جا سکتا۔جس طرح میں نے بتایا ہے کہ یہ انے مفسرین کی کسی غلط بات کی بنیاد پر اُن کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔بعض نادان مجھ سے یہ بات سن کر کہ کمانے مفسرین نے فلاں بات لکھی ہے، کہہ دیا کرتے ہیں کہ ان تفسیروں میں کیا رکھا ہے۔مگر میں میں سے کسی غلط بات کا علم حاصل کر کے وہ یہ الفاظ کہتے ہیں اُن کے احسان کو مانتا ہوں اور میری گردن ان کے بار احسان سے اُٹھ نہیں سکتی۔اگر وہ لوگ بغوی، صرفی نخونی بخشیں نہ کرتے اور وہ دعائیہ تین نہ کر جاتے ، اگر وہ اس قدر وقت صرت نہ کرتے تو آج ان باتوں پر ہمیں وقت لگانا پڑتا۔پھر اگر ہم اُن کے ممنون نہ ہوں تو یہ غداری اور ناشکری ہوگی۔انہوں نے قرآن کریم کی ایسی خدمت کی ہے کہ اگر وہ آج ہوتے تو بے شک وہ اس احسان کی بھی قدر کرتے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے