تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 459
فصل چهارم کچھ عرصہ (خصوصا پر پیش کے آغاز سے حضرت حضرت امیرالمومنین کی ایک اہم صحت نیا سی ان ان کی سمت بعد عالمی کم کرنے اور دوسری علمی مصروفیات میں دن رات منہمک رہنے کی وجہ سے گرتی جارہی تھی اور حالت یہ ہو گئی تھی کہ مہینہ میں ایک دن ایسا آتا تھا جس میں حضور اپنے تئیں تندرست کہہ سکتے تھے اور پندرہ بیس دن ایسے ہوتے تھے کہ جونیم بیماری اور نیم تندرستی کے دن کہلا سکتے تھے۔اور یہ علالت در اصل تفسیر کبیر جلد سوم کے زمانہ کی محنت شاقہ کا طبعی رد عمل تھی جیسا کہ حضور نے ہر ثبوت / نومبر ہش کے خطبہ جمعہ میں خود بتایا کہ " تفسیر کبیر کا جو کام نلہ میں میں نے کیا اور جس میں راتوں کو بعض اوقات تین تین چار چار بجے تک کام کرنا پڑتا۔اس میں روزانہ ۱۷ - ۱۸ گھنٹے کام کرنے کا عمل میری جد و جہد والی زندگی کا آخری دور سیاست ہوا۔اور اس کے بعد قومی مضمحل ہو گئے "۔پہلے نقرس کا عارضہ تھا۔پھر ایگزیما ، کھانسی اور نزلہ کے عوارض بھی لاحق ہو گئے۔عمر مبارک بھی چون سال تک پہنچ گئی۔مگر احمدی دوستوں خصوصاً قادیان کے احباب کو ابھی تک یہ احساس نہ ہو سکا کہ اعلانات نکاری اور ولیمہ کی دعوتوں میں حضور کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔آخر با دای ناخواستہ حضور کو خود ہی اعلان کرنا پڑا۔کہ میں ایک سال تک نہ کوئی نکاح پڑھاؤں گا اور نہ کسی دعوت میں شریک ہوں گا۔مگر بعض دوستوں کی طرت سے کہا جانے لگا کہ ہم استفاد کے طور پر اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں۔اور اعلان کے بعد استشنیٰ کے طور پر بیس پچیں نکاح پڑھانے اور دس پندرہ دعوتوں میں شریک ہونے کی درخواستیں آگئیں۔اور اس طرح بعض دوستوں نے بیماری میں بھی اپنے آقا پر زائد بوجھ ڈالنے سے گریز نہیں کیا۔ان حالات میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی رض کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ رہا کہ پوری جماعت کے سامنے صورت حال رکھ دیں۔چنانچہ اسی مقصد کے پیش نظر حضور نے ھر نبوت / نومبر کی ایک خاص اور اہم پہ اللہ خطی جمیعہ ارشاد فرمایا۔جس میں اپنی خرابی صحت کی کیفیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ سة الفضل " نبوت / نومبر رش صفحه۔به بیش + له ایضاً ایضاً صفحه ۲-۳ ( خطبه جمعه حضرت خلیفہ اسیح الثانی رض۔