تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 27 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 27

۲۷ حضرت صارزاده جنوری شام میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تمیمہ انجام آتھم میں اپنے ۳۱۳ اصحاب کبار کی فہرست شائع فرمائی تو آپ کا نام نمبر کا ون پر درج کیا۔سنٹر میں آپکی ایک صاحبزادی مرزا بشیر احمد صاحب کے عقد میں آئیں۔شاہ کے اوائل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو صدر پنجمین احمدیہ کے معتمدین میں شامل فرمایا۔حضرت مولوی غلام حسن صاحب خلافت اولیٰ کے عہدہ میں سلسلہ کی خدمات بجالاتے رہے۔مگر 9 منٹ کے شروع میں جماعت میں آئندہ نظام خلافت کے خاتمہ کی نسبت مولوی محمد علی صاحب کے خیالات سے معاشہ ہو کر ان کے زیر دست موید و ہمنوا بن گئے بچنا نچہ جب مولوی محمد علی صاحب نے حضرت خلیفہ اول کی زندگی کے آخری ایام میں " ایک نہایت ضروری اعلان " کے نام پر یمن ٹیم پریس لاہور سے جو خفیہ ریکیٹ شائع کیا تو اس پر آپ کی مندرجہ ذیل مفید ته عبارت درج تھی کہ ”مذکورہ بالا مضمون کی میں تصدیق اور تائید کرتا ہوں اور سلسلہ کی بھلائی اسی پر عامل ہونے میں یقین رکھتا ہوں۔غلام حسن سب رجسٹرار پیشاور لے حضرت مولوی صاحب ایک لمبے عرصہ تک احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے نہایت ممتاز رکن رہے اور دیانتداری سے سلسلہ احمدیہ کی خدمت میں مصروف رہے لیکن اپنی فطرت نورانی کے باعث بالآخر لاہوری طریق سے بھی الگ ہو گئے۔اسی دوران میں ۱۹۳۹ہ کا جلسہ قریب آگیا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اس تقریب سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے حضرت مولوی صاحب کو قادیان تشریف لانے کی دعوت دی) نیز لکھا کہ پیشاور سے قادیان تک آنے کے لئے موٹر وغیرہ کا انتظام بھی ہو جائے گا۔مگر اُن کی طرف سے قریباً نفی میں جواب آیا۔ایک تو انہوں نے بیماری اور کمزوری کا عذر کیا اور لکھا کہ اب ایسی حالت ہے کہ ڈرتا ہوں کہ کہیں سفر میں ہی پیغام آخرت نہ آجائے۔دوسری بات انہوں نے جولی کی تقریب کے متعلق لکھی کہ یہ ایک بدعت ہے لیے اس پر حضرت میاں صاحب نے ادب کے طریق پر جواب لکھا اور اس میں جوبلی کی تقریب سے متعلق ے ٹریکٹ ایک نہایت ضروری اعلان صفحه ۲۱ د شائع کرده مولوی محمد علی صاحب تاریخ له به که به تفصیلات حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے ایک مکتوب سے ملتی ہیں جو آپ نے ار دسمبر ۹۳۶ہ کو قاضی محمد یوسف صاحب (امیر جماعت احمد یہ سابق صور سرحد کے نام لکھا تھا اور میں میں انہیں تاکید کی تھی کہ وہ مولوی صاحب سے دوبارہ ملیں اور وعدہ یاد دلا کر کوشش فرمائیں کہ آپ تشریف لانے کے لئے تیار ہو جائیں ،