تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 442
السالم گاڑی میں سواری کر چکے ہیں اور محکمہ ریل نے پوچھا نہیں مگر سر کار کو اس کا حق ملنا چاہئیے !! اپنی مقدمہ کے دوران میں ایک دفعہ جبکہ حضرت میر محمد اسحاق صاحب کی شہادت ہمارے فریق مخالفت کے خلاف ہو رہی تھی تو ایک ایسی بات جس سے فریق ثانی پر حرف آتا تھا وکیل مخالف کے سوال کرنے پر حضرت میر صاحب نے بتائی۔تب فریق مخالف کے وکیل نے آپ پر جمع کی۔کہ یہ بیان آپ نے پولیس میں کیوں نہیں دیا تھا؛ کیونکہ آپ کے پولیس کے بیانوں میں یہ نہیں ہے جواب میں آپ نے فرمایا۔میں تو اب بھی عدالت میں یہ بیان دینے کے لئے تیار نہ تھا۔لیکن آپ لوگوں نے پوچھا ہے تو مجھے مجبوراً جواب دینا پڑا۔ورنہ میں قطعاً بیان نہ کرتا ہے مرزا عبد الحق صاحب ایڈووکیٹ گورداسپور کا بیان ہے کہ شہادت استغاثہ کے ختم ہونے کے بعد ہماری طرف سے شہادت صفائی پیش ہوئی۔محترم خانصاحب مولوی فرزند علی صاحب مرحوم ہمارے گواہ صفائی تھے۔آپ نے اپنے بیان میں حضرت میر صاحب کے متعلق فرمایا کہ آپ ایک نہایت معزز سید خاندان سے ہیں۔عالم قرآن و حدیث ہیں اور بعض اور وجاہت کے پہلو بھی بیان فرمائے۔حضرت میر صاحب اس وقت میرے پاس ہی کرسی پر بیٹھے تھے۔با وجود ملزم ہونے کے عدالت آپ کو ہمیشہ کرسی دیتی تھی۔جب محترم خانصاحب مرحوم یہ بیان دے رہے تھے تو حضرت میر صاحب کے آنسو رواں ہو گئے۔آپ نے رُومال نکال کر اپنی آنکھوں پر رکھ لیا اور آہستہ سے نہایت وقت سے مجھے فرمانے لگے۔مرزا صاحب ! ان چیزوں سے انسان بخت نہیں جاتا۔مومن اللہ تعالیٰ کے فضل سے بخشا جاتا ہے۔اللہ تعالے مجھے معاف فرمائے آپ کے الفاظ تو مجھے پورے طور پر یاد نہیں۔لیکن ان کا مفہوم وہی ہے جو میں نے لکھا ہے۔آپ کی آواز میں خاص درد انگیز رقت تھی اور آپ کے آنسو بہہ رہے تھے۔اسی کیس میں جس روز آپ کا بیان ہوا۔آپ میرے پاس ہی میرے مکان پر ٹھہرے ہوئے تھے۔مجھے اندر سے بلا کر اپنے ساتھ چار پائی پر بٹھا لیا اور بڑی رقت کے ساتھ فرمانے لگے کہ مجھ سے کوئی نادانستہ غلط بیانی تو نہیں ہو گئی۔میں نے تسلی دی لیکن آپ کے آنسو بہنے لگ گئے۔اور آپ فرماتے رہے۔یا اللہ! اگر کوئی غلطی ہو گئی ہو تو مجھے معاف فرمانا۔آپ کا بیان واقعات کے سه " الغرتان میر محمد اسحاق نمبر ستمبر اکتوبر شارد صفحه ۴۵ + س حال مقیم سرگودھا - امیر صوبائی جماعت ہائے احمدیہ مغربی پاکستان۔+