تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 441 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 441

۴۳۰ A چودھری محمد لطیف صاحب لاہور ہا ؤس قادیا۔ٹھیکیدار علی احمد صاحب قادیان - چودھری بڑھا صاحب ساکن بیسرا ۱۰ - چودھری فضل الدین صاحب حمرا چودھری امیر احمدہ صاحب بسراواں مولوی محمد ابراہیم صاحب فاضل بھا مڑی ۱۲ مولوی عبدالعزیز صاحب بھا مری ۱۳ چودھری محمد شفیع صاحب بگولی سے اس مقدمہ میں سماعت دھار یوال ، بٹالہ یا گورداسپور میں ہوتی تھی۔تقریباً پچاس سے زائد پیشیاں بھگتنی پڑیں اور جماعت احمدیہ کی طرف سے وقتا فوقتا مندرجہ ذیل وکلار پیش ہوئے۔مرزا عبد الحق صاحب ایڈووکیٹ گورداسپور ، میر محمد بخش صاحب ایڈووکیٹ گوجرانوالہ۔شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ کپورتھلہ ، مولوی فضل الدین صاحب پلیڈر۔چودھری اسد اللہ خاں صاحب بیرسٹرایٹ لاء لاہور ، شیخ ارشد علی صاحب پلیڈر۔حضرت میر محمد اسحاق صاحب کا مقدمہ بھاڑی میں حضرت میر محمد اسحاق صاحب امیر قافلہ ہوتے تھے۔آپ نے اس مقدمہ کے دوران عدالت سے مقدمہ بھا مڑی میں مبارک طرز عمل باہر اور عدالت کے اندر جو مبارک طرز عمل اختیار فرمایا وہ ایک مثالی چیز ہے جس کا تذکی ہمیشہ سنہری حروف میں کیا جائے گا۔بطور مثال اس جگہ تین اہم بیانات درج ذیل کئے بجاتے ہیں۔ا حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل (جت) مقدمہ بھا مڑی کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:۔اس مقدمہ کی تاریخ کے لئے ہمیں گورداسپور اور دھالہ یوال جانا پڑتا تھا۔ہم صبح کی گاڑی قادیان سے چل کر بٹالہ اتر جاتے اور پٹھانکوٹ کی گاڑی کے لئے اسٹیشن کے قریب ایک چھوٹی سی مسجد میں آرام کرتے جو بابو محمد شریف صاحب احمدی مرحوم کے آباؤ و اجداد نے بنوائی ہوئی تھی۔اسی جگہ صبح کا ناشتہ بھی کرتے۔اُن دنوں قادیان سے یہ گاڑی منہ اندھیرے ہی روانہ ہوتی تھی۔اس لئے ایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ مسجد میں حضرت میر صاحب نے جو امیر قافلہ ہوتے تھے آنے والوں کی گنتی کی تو معلوم ہوا کہ چار پانچ آدمی زیادہ آئے ہیں۔اس پر آپ نے مجھے حکم دیا کہ اسٹیشن سے اتنے ٹکٹ بٹالہ تاق دریان لائے جائیں۔چنانچہ ٹکٹ آنے پر آپ نے ان کو اپنے ہاتھ سے پھاڑ دیا اور فرمایا چونکہ یہ دوست کو یہ له " الفضل" نبوت / تو میر ی بیش صفحه ۵ کالم ۱ کے رپورٹ سا امر صد را تخمین احمدیه ۳۳۳۳ سه مش صفحه ۳۴ ۱۳۲۳۲۳۲ ۰۳۴۰ 1976 16