تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 436 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 436

۴۲۵ آیا کہ آپ اپنے آدمیوں کو راستہ راستہ لے چلیں۔نہیں اس مجمع کو روکتا ہوں۔میں نے آواز دے کر سب کو واپس چھلنے کو کہا اور سب کو لے چلا اور جب مڑ کر میں نے دیکھا تو یہ نظارہ نظر آیا کہ اسسٹنٹ سب انسپکٹر صاحب معد سپاہیوں کے مخالفوں کے مجمع کی طرف آگے بڑھا ہے اور جیسا کہ بعض لوگوں نے مجھے بتایا ہے کہ اس موقع پر پولیس نے مخالفین پر لاٹھی چارج بھی کیا۔بہر حال میں نے دیکھا کہ لوگ واپس بھاگ رہے ہیں۔اب معلوم نہیں کہ یہ لاکھٹی چارچ کا نتیجہ تھا یا یہ کہ کوئی اور بات تھی۔بہر حال میں اپنے سب آدمیوں کو لے کر واپس قادیان روانہ ہوا۔اور زخمیوں کو ہر چو وال کی ڈسپنسری میں بھیج دیا۔نہر پر پہنچ کہ مولوی دل محمد صاحب کو کہا کہ آپ تمام مجمع کو نماز پڑھا کر قادیان سے بھائیں اور خود موٹہ میں جو مجھے ہاسپیٹل سے شاہ صاحب نے بلانے کے لئے بھیجی تھی بیٹھ کر ہر چو وال کی ڈسپنسری میں پہنچا۔وہاں ڈاکٹر انچارج موجود نہ تھا۔ایک کمپاؤنڈر تھا جس نے ایک مضروب احمد دین کی بیٹی کی۔باقیوں کو موٹہ اور ٹانگہ میں واپس قادیان سے آیا اور نور ہسپتال میں داخل کرا دیا۔پولیس کی کارروائی اور بعد کے حالات اسی رات قادیان میں پولیس پہنچی اور صبح کے چار بجے کے بعد نور ہاسپیٹل میں زخمیوں کے بیانات لئے گئے۔دوپہر کو سپرنٹنڈنٹ پولیس اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس بھی پہنچ گئے۔اور قادیان کی پولیس چوکی میں خالصہ صوب مولوی فرزند علی صاحب کے اور میرے بیانات ہوئے۔پھر ہم موضع بھارتی سپر نٹنڈنٹ صاحب کے ساتھ گئے اور انہیں موقع دکھلایا۔وہاں بھی مخالف پارٹی کے تین اشخاص کے بیان قلمبند کئے گئے۔پھر مورخہ ۲۵ کو سری گوبند پور کے تھانہ دار صاحب نے قادیان آکر مجھ سمیت سولہ اشخاص کے پچالان کی غرض سے حاضری عدالت کی ضمانتیں ہیں۔یہ ہیں مختصر سے کو الف اس جلسہ کے۔اب معاملہ بظاہر عدالت انگریزی کے ہاتھ میں اور بباطن عدالت عالیہ سماویہ کے قبضہ میں ہے۔وہی کچھ ہو گا جو آسمان پر مقدر ہے کیونکہ وَالْقَدْرِ خَيْرِهِ وَشَیرہ پر ہم ایمان لانے والے ہیں۔ہمار کی دعا یہی ہے کہ ہمارے لئے وہی ہو جو ہمارے حق میں خیر اور بہتر ہو۔ان مسلسل واقعات کی لڑی کے علاوہ بعض اور باتیں احباب کی واقفیت کے لئے بیان کر دیتا ہوں۔(1) جب ۷ ارجون کو سہمیں ہر ھے وال کی نہر کے پل پر بھاڑی والوں نے بھانے سے روکنے کی کوشش کی تو میں نے ناظر صاحب امور عامہ کو اطلاع کے لئے دو سائیکلسٹ یکے بعد دیگرے بھیجے تو ناظر صاحب امور عامہ نے ایک تار گورداسپور میں دن کے دس بجکر دس منٹ پر سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس اور ایک خط سائیکلسٹ کے ہاتھ سری گویند پور کے تھانیدار صاحب کو بھیجا کہ وہاں کے لوگ فساد پر آمادہ ہیں انہیں روکا جاوے۔