تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 435 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 435

مام تھا کہ ہمارے گردہ کے پچھلے لوگ بسبب منتشر ہو جانے کے گاؤں والوں کے ہاتھوں سے پیٹ رہے تھے نقشہ میں جو کھیتوں اور مقام سب کے پیچھے نقطے دیئے گئے ہیں یہ وہ احمدی لوگ ہیں جو منتشر ہونے کی وجہ سے گاؤں والوں نے گھیر کر زخمی کر دیئے۔یہ حالت بھاری تھی اور ہمارے آدمی پیٹ رہے تھے اور ہم کو معلوم نہ تھا کہ یکدم۔ایک حاوی طالب علم احمد رشدی۔۔۔۔نے شور مچا کر کہا کہ ہمارے آدمیوں کو گاؤں والوں نے گھیر • '۔اپنے لیا ہے اور انہیں مار رہے ہیں۔اس پر ہمارا مجمع جسے میں نے روکا ہوا تھا قریباً ڈیڑھ سو آدمی۔آدمیوں کی حفاظت کے لئے بے تحاشا کھیتوں میں پہنچا۔ان کو دیکھ کر وہ مخالف ہو احمدیوں کا تعاقب کر کے انہیں۔زخمی کر رہے تھے مقام ب کی طرف واپس بھاگے۔یہ دیکھ کر اور یہ خیال کرتے ہوئے کہ شاید یہ افواہ غلط ہو کہ رہا ہے آدمی زخمی ہوئے ہیں۔۔۔۔۔میں نے بلند آواز سے لوگوں کو واپس بلانا شروع کیا کہ واپس آؤ۔واپس آؤ۔اس پر اس مجمع میں سے مختلف احمدی میرا نام لے کر احمدیوں کو بلانے لگے کہ میر صاحب بلاتے ہیں۔واپس آؤ۔واپس آؤ۔غرض بڑے زور سے میں نے مجمع کو واپس بلایا ہو پھر۔۔۔۔میرے پاس پہنچ گئے۔اس وقت معلوم ہوا کہ ہمارے بعض آدمی اپنے زخمیوں کو اٹھا کہ مقام حہ میں موٹر اور ٹانگوں کے پاس لے آئے ہیں۔ان زخمیوں میں سے دو شخصوں کے سائیکل بھی مخالفت چھین کرلے گئے۔جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ شاہ صاحب کو چوت لگی ہے اور وہ بے ہوش ہو گئے تھے مگر اب ہوش میں ہیں اور ہمارے لوگ ان کو مقام سحر تک لے آئے ہیں تو میں مقام حج تک تمام مجمع کو لے آیا۔یہاں پر تمام زخمی موٹر اور ٹانگہ میں بٹھا دیئے گئے اور ہم مقام ح سے چل کر قادیان مردانہ ہوئے۔اس وقت اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ مقام جب سے چار پانچ سو آدمیوں کا مجمع ہو کہ سب کا سب لاٹھیوں، نگوؤں ، کھویوں اور تلواروں سے مسلح تھا اور جس میں مسلمانوں کے علاوہ سکھ بھی تھے نہایت تیزی سے ہماری طرف نعرے لگاتا اور چیلنج کرتا ہوا بڑھ رہا تھا۔یہ گویا دوسرا حملہ تھا۔یہ مجمع ایسا خوفناک تھا کہ میں نے دیکھ کر اس وقت یہ یقین کر لیا کہ ہم وہاں سے زندہ بچ کر نہیں جا سکتے کیونکہ ہارا مجمع غیر مسلح تھا۔صرف تین یا چار فیصدی کے پاس لاٹھیاں تھیں۔باقی سب نہتے تھے مجمع میں نہایت خود در سال عمر کے بہت سے بچتے تھے حتی کہ آٹھ نو نابینا بچے بھی تھے۔بوڑھے اور معذور اور کمزور لوگ بھی تھے۔یہ مجمع دیکھ کر ہمارے بعض تو جوان با لخصوص جامعہ احمدیہ کے طالب علم دفاع کے خیال سے آگے بڑھے اور خدا نے انہیں قوت بخشی کہ وہ موت کے منہ میں بھانے کے لئے تیار ہوئے۔مگر میں نے آگے بڑھ کر ان کو روکا اور واپس نے آیا۔اس وقت میرے پاس اسسٹنٹ سب انسپکٹر پولیس