تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 434
۴۴۳۳ چلنے کے منتشر سورت میں پھلنے لگے۔چونکہ دشمنوں کا مقام (ج) سے اینٹیں مارنے کا بڑا مقصد بھی یہ تھا کہ وہ ہمارے پچھلے حصہ کو ہم سے جدا کر دیں اس لئے جب ہمارے پیچھے یہ چالیس کے قریب لوگ بائیں طرف مڑے اور خشت باری کے مقام سے کترا گئے اور ہم سے کٹ گئے تو مخالفین فوراً حویلی میں سے باہر کو کر کل آئے اور لاٹھیوں کہ پانیوں اور تلواروں سے اُن کو گھیر کو بری طرح زخمی کیا۔چنانچہ میرے بالکل پیچھے جناب خانصاحب مولوی فرزند علی صاحب تھے۔یہ جب خشت باری دیکھ کر میرے پیچھے پیچھے آنے لگے تو انہیں دو اینٹیں لگیں۔اس پر یہ بائیں جانب مڑ کر اور کھیتوں میں سے ہوتے ہوئے (سم) کی طرف بھا کر ٹانگوں تک پہنچ گئے۔اُن کے پیچھے جناب سید ولی اللہ شاہ صاحب تھے جب وہ الف کے مقام پر پہنچے تو آگے اینٹوں کی بارش دیکھ کر مقام (ب) کی طرف مڑے۔ان کے ہمراہ اُن کا تیرہ سالہ لڑکا بھی تھا۔شاہ صاحب نہایت ثبات قلب کے ساتھ آہستہ آہستہ بجا رہے تھے کہ گاؤں والوں نے انہیں گھیر لیا اور ڈانگوں سے حملہ کر دیا۔پہلے تو شاہ صاحب ہا تھوں پر روکتے رہے مگر جب کندھوں اور کمر پر لاٹھیوں سے زور سے چوٹیں لگیں تو بے ہوش ہو کہ گیہ پڑے۔مگر ان کے گر بجانے پر بھی لوگ مارتے رہے۔شاہ صاحب کے جسم پر ایک نشان تلوار کی ضرب کا بھی معلوم ہوتا ہے گوندا کے فضل سے اس نے کاٹا نہیں۔ان کے بچے کو بھی چوٹ لگی اور وہ بھی شاہ صاحب پر گر کر رونے لگا۔اسی طرح بقیہ لوگ جب منتشر ہو کر بجائے اس کے کہ ہم کو آملتے بائیں طرف مڑے تو گاؤں والوں نے انہیں الگ الگ اور منتشرپا کر کسی کو کرپان تلواروں سے کسی کو ڈانگوں سے غرض مختلف طریقوں سے سخت زخمی کیا۔مگر اس سارے عرصہ میں ہم کو جو کہ مقام (ج) اور مقام (د) کے سامنے کھڑے تھے بالکل معلوم نہ تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔کیونکہ وہ ہماری نظروں سے او میں تھے۔لیکن جب میں نے اپنے احمدیوں کو پر سکون مجمع کی صورت میں کھڑا کر لیا تو اب شاہ صاحب اور خان صاحب کا خیال آیا۔اتنے میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر پولیس بھی میرے پاس آپہنچا۔لیکن نے اُسے غصہ سے کہا کہ دیکھو اتنے لوگ کھڑے ہیں اور ہم پر اتنا ظلم ہوا ہے۔یہ لوگ اگر دفاع کرتے تو ان مخالفوں کو کے ٹکڑے کر دیتے مگر میں نے ان کو روک رکھا ہے لیکن آپ نے گاؤں والوں کو روکا تک نہیں۔وہ شرمندگی کے لہجہ میں کہنے لگا کہ میں کیا کروں میرے پاس سپاہی نہیں صرف تین چار آدمی ہیں۔میں کس طرح اس مجمع کو روک سکتا تھا۔اتنے میں شاہ صاحب اور خانصاحب کی تلاش کے لئے میں خود میں پڑا کہ مجھے جامعہ احمدیہ کے طلبہ نے گھیرا ڈالا کر روک لیا کہ آپ نہ جائیں۔اس پر اسسٹنٹ سب انسپکڑ نے کہا کہ میں شاہ صاحب کا پتہ لیتا ہوں۔یہ وہ وقت