تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 431 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 431

۴۲۰ شروع ہے پھر تم یہاں کیوں جلسہ کرتے ہو۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ان کا جلسہ یہاں نہیں ہونے دینا۔غرض دیر تک بحث اور رو دگر ہوتا رہا۔آخر ان کا اصرار اور سند دیکھ کر اور ہماری شرافت سے ناجائنہ فائدہ اُٹھا کر اسسٹنٹ سب انسپکٹر صاحب نے ہمیں کہا کہ آپ ہی کسی اور جگہ جلسہ کر لیں۔حالانکہ ہمارا جلسہ پہلے سے شروع ہو چکا تھا۔اور میں مکان پر ہم جلسہ کر رہے تھے وہ ایک احمدی کا مکان تھا اور سائبان وغیرہ لگانے کی زحمت ہم برداشت کر چکے تھے۔اور جلسہ شروع تھا۔مگر پھر بھی ہم نے اسسٹنٹ سب انسپکٹر صاحب سے کہا کہ بہت اچھا آپ ہمیں کوئی اور جگہ دیدیں ہم وہاں جلسہ کر لیں گے۔اس پر وہ اُٹھ کر جگہ کی تلاش میں گئے۔اور مخالف بدستور نعرے لگاتے رہے۔جن میں احمدیت مردہ باد کے نعرے بھی تھے۔اسٹنٹ سب انسپیکٹ صاحب کے ساتھ مولوی دل محمد صاحب گئے۔پہلے اسٹنٹ کسب انسپکٹر صاحب نے ایک ایسی جگہ دکھلائی جو گندی اور گوبر سے آئی پڑی تھی۔پھر جب ایک سکھ نے بطور خود کہا کہ ہمارے گوردوارہ کے پاس بڑ کے نیچے جلسہ کر لیا جائے تو سب انسپکٹر صاحب نے اس کی تائید کی جس پر مولوق دل محمد صاحب نے وہ بنگہ صاف کروائی اور ہم کو اطلاع دی۔ہم نے اپنا سامان سینوں وغیرہ کو اٹھا لیا اور اس بڑ کے نیچے جو گوردوارہ کے پاس تھا جلسہ شروع کیا۔جب ہم اپنا سامان اسے کو نئی جگہ جانے لگے تو مخالفوں نے تالیاں بجائیں اور نعرے لگائے کہ گویا احمدی شکست کھا کہ یہاں سے جالہ رہے ہیں۔گوردوارہ میں جو کنواں تھا ہم اس سے پانی لینے لگے تو ہمیں پانی لینے سے روک دیا گیا اور غیر احمدیوں کی دھمکی سے گوردوارہ والے میں متاثر ہوئے۔اتنے میں ایک ہندو پریشو تم داس نے جوڑی۔اسے وہی سکول قادیان کا طالب علم رہ چکا تھا اور ہمارے مدرسہ کے طلباء سے میچ وغیرہ کھیلنے کے سلسلہ میں ملاقات کی راہ و رسم رکھتا تھا، کہا کہ آپ ہمارے کنوئیں سے پانی لے سکتے ہیں۔مگر بالآخر بعض لوگوں کے زور دینے پر گوردوارہ سے پانی ملنے لگا۔تھوڑی دیر بعد پھر گاؤں والوں نے گوردوارہ والوں پر زور ڈالنا شروع کیا کہ یہاں جلسہ نہ کرنے دیا جائے۔سپنا نچہ سکھوں کی دو پارٹیاں ہوگئیں اور وہ آپس میں جھگڑنے لگے مگر اکثریت ہمارے مخالفوں کی تھی۔یہاں تک کہ گوردوارہ والوں نے ڈر کر اسسٹنٹ سب انسپکٹر صاحب سے کہا کہ ہمیں لوگ تنگ کرتے ہیں اس لئے ہم جلسہ نہیں ہونے دیں گے۔مگر چونکہ وہ اسٹنٹ سب انسپکٹر کے ملنے جگہ دے چکے تھے اس لئے اس نے کسی طرح انہیں تسلی دی اور جلسہ شروع رہا۔جلسہ کے دوران میں لوگ اللہ کر باری باری کھانا کھانے لگے اور تقریر میں جاری رہیں۔اس عرصہ میں ناظر صاحب امور عامہ اور خانصاحب مولوی فرزند علی صاحب سیٹھ پر یشو تم داس کی دعوت پر اس کے ہاں چائے پینے چلے گئے۔