تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 420 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 420

۴۰۹ آسمان سے اتر کر اُن کو پُر کر دیں گے اور جب ہم پہنچیں گے وہ ہمیں گڑھے نہیں بلکہ تہوار اور سیدھا اور کلا راستہ نظر آئے گا۔پس ہمارا کام یہ ہے کہ ہم اپنی آنکھیں بند کر کے چلتے پہلے جائیں اور اس امر کی پروانہ کریں کہ دنیا ہمارے متعلق کیا کہتی ہے۔جس خندق کو عبور کرنے کا خدا نے حکم دیا ہے وہ بہال عبور کی جائے گی۔اگر ہمارے لئے یہ مقدر ہے کہ ہم اس میں گر کر مر جائیں تو اس موت سے زیادہ ہمارے لئے خوشی کی چیز اور کوئی نہیں ہوسکتی۔اور اگر ہمارے لئے بچنا مقدر ہے تو کوئی خطرہ ہمارے ارادوں کو پست اور ہماری ہمتوں کو کوتاہ نہیں کر سکتا لیکن میں کہتا ہوں یہ خیال ہی غلط ہے کہ ہمارے رستے میں وہ گڑھے آنے والے ہیں جو ہمیں ہلاک کر دیں گے۔ان گڑھوں کو خدا کے فرشتے ہمارے پہنچنے سے پہلے پہلے ہی پر کر دیں گے اور ہم سلامتی کے ساتھ دنیا میں امن کا جھنڈا قائم کر کے رہیں گے۔یہ خدا کی تقدیم ہے جسے کوئی بدل نہیں سکتا۔یہ عرش پر خدا کا وہ فیصلہ ہے جسے بدلنے کی کوئی شخص قوات نہیں رکھتا۔ہمارا کام دین کی عظمت اور اس کے جلال کو دنیا میں قائم کرتا ہے۔بہمارا کام محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے نام کو دنیا میں بلند کرتا ہے ہمیں نہیں چاہئیے کہ ہم کوئی ایسا کام کریں جو دشمنوں کی نظر میں اسلام کو بدنام کرنے والا اور اُن کو دین کے متعلق اور زیادہ شبہات میں مبتلا کرنے والا ہو۔مجھے خدا تعالیٰ کے فضل سے کابل یقین ہے کہ یہ حالات جو بے پردگی وغیرہ کے سلسلہ میں دنیا میں نظر آرہے ہیں چونکہ خدا تعالیٰ کے دین کے خلاف ہیں اس لئے اب دنیا میں قائم نہیں رہ سکتے ہے پروی مٹ جائے گی۔مرد اور عورت کا آزادانہ میل جول جاتا رہے گا۔مغربیت اپنے ہاتھوں اپنی قبر کھود رہی ہے جس میں وہ ایک دن ہمیشہ کی نیند سلا دی بجائے گی اور اسلام اپنی پوری شان اور اپنی پوری آب تاب کے ساتھ دنیا کے ہر گوشہ میں بلکہ ایک ایک گھر اور ایک ایک دل میں جلوہ نما ہو گا۔اگر خدا ہمیں کل ہی حکومت دے دے اور ہم وائسرائے کی طرح ایک آرڈی ننس جاری کر دیں کہ جو عورتیں پردہ نہیں کریں گی انہیں قید کر دیا جائے گا، تو تم دیکھو گے کہ دوسرے ہی دن وہ عورتیں ہو آج کھلے منہ مشرکوں اور بازاروں میں گھومتی دکھائی دیتی ہیں دوڑی دوڑی جائیں گی اور گھروں میں سے نہیں نکلیں گی جبتک انہوں نے برقع پہنا ہوا نہ ہوگا۔پھر یہ سوال تو رہ جائے گا کہ برقع کا سرخ رنگ ہونا چاہیئے یا سبز ہونا چاہیے ، سیاہ ہونا چاہئیے یا سفید ہونا چاہیے۔کوئی طبقہ کسی رنگ کو پسند کرے گا اور کوئی کسی رنگ کو۔مگر یہ نہیں ہوگا کہ کوئی ایک عورت بھی بے پرد نظر آئے۔پس ہمارے لئے گھیرانے کی کوئی وجہ نہیں۔