تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 416 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 416

۴۰۵ دین اسلام بیکس ہو گیا ہے اور کوئی اس کا دوست و مد کار نہیں رہا۔یہ وہ چیز ہے جیسے سلسلہ احمدیہ پچاس سال سے پیش کر رہا ہے اور ہم تسلیم کر چکے ہیں کہ آج مسلمانوں کی یہی حالت ہو رہی ہے۔پھر اس کو اسلام کی ایک نئی شکست کیونکر قرار دیا جا سکتا ہے۔یہ بیماری تو وہ ہے نہیں کا اعلان آج سے پچاس سال پہلے بلکہ اس سے بھی پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کر دیا تھا۔پس یہ کوئی نئی بیماری نہیں جو بہار ہے سامنے پیش کی جائے۔دشمنان اسلام کو جو کچھ دیکھنا چاہیئے وہ یہ ہے کہ کیا اس بیماری کے علاج کا کوئی شفا خانہ دنیا میں قائم ہو چکا ہے یا نہیں۔اگر دنیا میں اس بیماری کے علاج کا شفا خانہ قائم ہو چکا ہے تو پھر اس میں اُن کے لئے خوشی کا کہ ناموقعہ ہے۔آج دوبارہ اسلام کی ترقی کے سامان خدا تعالیٰ نے پیدا کر دیتے ہیں اور دوبارہ اسلام کی بنیادوں کی تھری کیلئے قادیان میں اس نے اپنا ایک انجیر بھیج دیا ہے۔اس انجنیر نے اسلامی بنیادوں کو مضبوط کر کے اس پر اسلام کے رفیع الشان محل کی عمارت کو کھڑا کرنا شروع کر دیا ہے۔پس اگر کوئی دشمن اسلام اسلام کی اس گرتی ہوئی بنیاد کو دیکھ رہا ہے تو وہ اُن اُٹھتی ہوئی بنیا دوں کو بھی دیکھے جس کے عظیم الشان محل میں دنیا کی تمام پاکیزہ گروں کو لا کر اکٹھا کر دیا جائے گا۔ان کو وہ چھ شکست خوردہ ذہنیت کے مالک مسلمان نظر آتے ہیں مگر وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ان کے گھروں کے سامنے خدا تعالے کی یہ آواز بلند کی جارہی ہے کہ "میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا " کیا یہ آواز ان کے کانوں میں نہیں آتی۔وہ محل جس کی دیواریں ایک طرف گر رہی ہوں اور دوسری طرف اس کی نئی اور مضبوط دیواریں کھڑی کی جارہی ہوں۔اس محل کی دیواریں گرنے پر کسی دشمن کو کیا خوشی ہو سکتی ہے۔اگر ایک طرف اسلام کی کوئی دیوار گر رہی ہے تو دوسری طرف اس کی نئی اور مضبوط دیواریں خدا تعالیٰ کے فضل سے کھڑی کی جا رہی ہیں۔پس دشمن کے لئے خوشی کا کوئی موقعہ نہیں۔بیشک یہ ایک کمزوری ہے اور ہم اس کم دوری کو تسلیم کرتے ہیں۔مگر ہمارے لئے یہ کمزوری کوئی نئی چیز نہیں۔آج سے تیرہ سو سال پہلے رسول کریم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی خبر دے دی تھی۔اور آپ بتا چکے تھے کہ ایک زمانہ میں مسلمانوں کی کیا حالت ہو جائے گی۔۔۔۔تو دشمن کے لئے خوش ہونے کا کوئی موقع نہیں۔اسلام کی دیواریں اگر ایک طرف گیے رہی ہیں تو ساتھ ہی ایک نئی بنیاد اسلام کی ترقی کے لئے اٹھائی جا رہی ہے۔اگر دشمن یہ دیکھتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلعہ میں سے آپ کے نام کی طرف منسوب ہونے والے چند شکست نخوردہ لوگ ایک دروازہ سے نکلتے ہوئے آپ نے ہتھیار پھینک رہے ہیں تو وہ آنکھیں اُٹھا کر