تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 415 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 415

بڑا رکن ہے کوئی عظمت نہیں" اس ضمن میں ہندوؤں کی نسبت حضور نے فرمایا :- "مگر میرے نزدیک اس میں بھی ہندوؤں کے لئے خوش ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔میں نے خود ایک دفعہ ایک ہندو اخبار میں یہ لکھا ہوا دیکھا تھا کہ ہمارے ہاں سندھیا (یعنی صبح کی عبادت کا جو طریق اه رائج ہے اس کا ہم میں سے ایک بھی پابند نہیں۔پس جس قوم کی اپنی یہ حالت ہو، اور جس قوم کا ایک فرد بھی عبادت کا پابند نہ ہو اُسے اس بات پہ کیا خوشی ہو سکتی ہے کہ دو کروڑ ترکوں میں سے چھ ترک ایسے ہیں جو سفر کی حالت میں نماز نہیں پڑھتے۔“ حضور نے اس الزامی جواب پر اکتفاء نہ کرتے ہوئے مزید فرمایا کہ ید اعتراض بھی تب ہوتا جب یہ تسلیم کیا جاتا کہ اسلام اپنی عملی صورت میں اس وقت دنیا میں موجود ہے گر یہاں تک غیہ احمدیوں کا سوال ہے وہ بھی یہ نہیں کہتے کہ اسلام اپنی اصل شکل میں دنیا میں موجود ہے۔اور احمدیوں کا تو سوال ہی نہیں۔ہمارے تو دعوی کی بنیاد ہی اس بارت پر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة واست نام کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بھیجا ہے تاکہ آپ اسلام کو اس کی اصل شکل و صورت میں پھر قائم کریں۔پس اگر ترکوں نے یہ کہا کہ سفر میں نماز کیا پڑھتی ہے تو اس کے معنے صرف اتنے ہیں کہ انہوں نے اپنے اس جواب سے ایک اور تصدیق اس امر کی بہم پہنچا دی کہ اللہ رت لئے کی طرف سے دنیا کی اصلاح کے لئے ضرور کوئی مامور مبعوث ہونا چاہئیے کیونکہ آج خود مسلمانوں کی یہ حالت ہو رہی ہے کہ وہ اسلامی تعلیم پر عمل کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔پس مسلمانوں کو اس جواب پر پریشان ہونے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔آج سے پچاس سال پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ تمام نقشہ کھینچ کر رکھ دیاتھا۔ترکی وفد نے کونسی نئی بات بتائی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا۔محمد ہر کسے در کار خود با دین احمد کار نیست ہر شخص کو اپنے اپنے کام سے تعلق ہے مگر رسول کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین سے کسی کو کوئی واسطہ نہیں۔اسی طرح آپ نے فرمایا تھا۔پھر بیکسے شد دین احمد پیچ خویش دیار نیست لم ملک فضل حسین صاحب نے حضرت خلیفہ ربیع الثانی کے اس خطبہ کی تائید میں نہایت تحقیق کر کے ایک مضمون "افضل" کی اشاعت میں لکھا اور اس میں متعہ دمشہور آریہ سماجی لیڈروں اور اخباروں کے حوالے دیئے ؟۔۔