تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 414 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 414

وم بلند اور ان کے عزائم کومستحکم کیا اور ان کے ولولوں کو حیات نو بخشی به آواز امام جماعت احمدید خلیفہ اسی نشانی کی آواز تھی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی شان در تبلیغ فروری پیش کو قادیان کی مسجد اقصی کے منبر سے ترکی وفد کے جوابات کی نسبت ایک خاص خطبہ ارشاد فرمایا جس میں ترکی وفد کے اس جواب کے بارے میں کہ وہ ” ترک پہلے اور پھر مسلمان میں نہایت لطیف وضاحت کی کہ :۔اس کا مفہوم محض یہ تھا کہ ہمیں باقی مسلمان قوموں سے بے شک ہمدردی ہے۔لیکن اگر ہم کسی وقت دیکھیں گے کہ ہماری قوم کو نقصان پہنچنے والا ہے تو اس وقت ہم اپنی جان پہلے بچائیں گے اور دوسروں کا فکریجہ میں کریں گے۔یہ معنی نہیں تھے کہ ہم ترکی نسل کو مقدم کریں گے اسلام کو مقدم نہیں کریں گے۔کیونکہ وہاں تو کوئی اختلاف ہے ہی نہیں۔سب لوگ مسلمان ہیں۔یہ اختلاف تو ہندوستان میں ہی پایا جاتا ہے۔کیونکہ یہاں مختلف مذاہب کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ترک تو سب کے سب مسلمان کہلاتے ہیں۔ان کا ذہن ان معنوں کی طرف جاہی کس طرح سکتا ہے۔کہ ہم قومیت کو مقدم کریں گے اور مذہب کو موخر کریں گے۔پس ان کا ہو اب سیاسی جواب ہے۔اور یہ سیاسی جواب نیا تو نہیں جب ان میں خلافت قائم تھی۔اس وقت بھی ان کی طرف سے یہی بات پیش کی جاتی تھی اور آج بھی یہی بات پیش کی جاتی ہے" جہانتک ترکی وفد کے اس جواب کا تعلق تھا کہ سفر میں نماز کیا پڑھنی ہے حضور نے اس کو بہت اہمیت دی اور فرمایا کہ اگر وہ سچ ہے تو واقعہ میں افسوسناک ہے۔یہ جواب بتاتا ہے کہ اگر یہ بات سچتی ہے تو ترکوں کا وہ وفد جو ہندوستان میں آیا ہے اس کے دل میں اسلام کی تعلیم نے پوری طرح گھر نہیں گیا ہم اس سے یہ نتیجہ نہیں نکال سکتے کہ ساری ترک قوم ایسی ہے، کیونکہ ہر حال یہ چند افراد کا جواب ہے اور وہ اپنے فعل کے آپ ذمہ دار ہیں۔لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ وہ تحریکوں کے منتخب نمائندے ہیں۔پس بیشک اُن کا فعل ایک قوم کا فعل قرار نہیں دیا جا سکتا۔مگر چونکہ ترکوں نے انہیں اپنا نمائندہ منتخب کر کے بھیجا ہے۔اس لئے یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ترکوں کی طرف سے جو نمائندہ بے چین کر بھیجے گئے ہیں ان کے دلوں میں نماز کی جو اس پیم کے ارکان میں سے ایک بہت