تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 413
المؤمِن وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمُ خدا اور رسول کے حکم کے سامنے کسی مومن کو بھر تسلیم کے کوئی اختیار نہیں ہے۔ترکوں کی سلطنت کو اور قومیت کو یورپ نے سخت نقصان پہنچایا ہے۔اس پر بھی وہ یورپ کی تقلید سے نہیں ہٹے ہندو سیتی مسلمان ترکوں کی ہر مصیبت میں شریک غم رہے مگر ترکوں نے آخر یہی جواب دیا جو اُن کے منقولہ مقولہ سے پایا جاتا ہے اس موقعہ پر خصوصاً ہندو پر میں نے ان جوابات کو بہت اچھالا اور یہ نتیجہ نکالا کہ ترک اسلام سے بیزار ہیں۔اور مسلمانان ہند کی سیاست سے ان کو انقلاف ہے۔انہوں نے اس خیال کا بھی اظہار کیا کہ ترکوں نے فیصلہ کر دیا کہ قومیت پہلے ہے اور مذہب بعد میں۔اسی طرح ہندوستان میں قومیت کو مقدم رکھنا چاہیئے اور مذہب کو موخر سمجھنا چاہیئے۔چنانچہ اخبار" ملاپ " (۳ فرور می ۱۹۳۳ مٹر) نے لکھا : ترک اخبار نویسوں کے وفد کی وجہ سے پنجاب کے مسلم لیگیوں کو خصوصاً اور ہندوستان کے مسلم لیگیوں کو موماً جو خفت اٹھائی پڑی ہے اُسے شاید وہ ایک عرصہ تک فراموش نہ کر سکیں گے۔۔۔۔۔ان باتوں نے مسلم لیگ کے اس سارے تخیل کو مٹھی میں ملا کر رکھ دیا ہے جس پر وہ اپنی تمام سرگرمیوں کا محل کھڑا کر رہے تھے" قبل ازیں ۳۱ جنوری ۱۹۳۳مہ کی اشاعت میں لکھا :۔ترک اختیار نویسوں نے اُن کے مونہہ پر۔ایک ایسی چیست لگائی ہے جسے وہ عمر بھر یاد رکھیں گے۔۔۔یہ چیت اتنی کراری اور زیرہ دست ہے کہ کسی وضاحت کی ضرورت نہیں" اخبار " پر سجات" دیکم فروری ۹۲للہ نے لکھا :- ترک جرنلسٹوں نے ہندی مسلمانوں اور ترک مسلمانوں کی بھائی سیندی کا بھانڈا چھوڑا ہے میں پھوڑ دیا " ان حالات میں ملک بھر میں متفرق دیاں ہی ایک مقدس ہستی تھی جہاں سے ایک ایسی آواز اٹھی جس نے ہندو و کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا اور مسلمانان ہند کو اسلام کے شاندار مستقبل کی خبر دے کر ان کے حوصلوں کو ن اخبار" اہلحدیث " امرتسر مورخه هر فروری ۱۹۲۳ صفحه ۰۹ حواله الفضل " مورثه در تبلیغ فروری از پیش صفحه ۱ به د النا - ایمنا