تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 403
۳۹۲ بیت المقدس۔بہت کم خیلیل - حیفا - کیا۔بعہ - کفر کیا میں اسلام کا پیغام پہنچایا۔اور اس موقعہ پر۔سات ہزار کے قریب مختلف اشتہارات کتب تقسیم کیں۔دعا ہے کہ اللہ تعالی لوگوں کو راہ حق کی طرف ہدایت دے اور ہمارے احمدی احباب کو اجر عظیم عطافرمائے جنہونے سخت عدیم فرصتی کے ایام میں اپنے پنے اخراجات پر ریفر کئے۔آمین۔خاکسار نے یہ م التبلیغ کے موقعہ پر بیت المقدس دبیت لحم وخلیل دنابلس کا سفر کیا۔میرے ہمراہ مریم مرزا محمد صادق صاحب احمدی ایس ڈی او لاہور نزیل مشرق وسط بھی تھے۔اس سفر میں ہم نے زبانی اور بذریعہ اشتہارات من تبلیغ ادا کیا۔بازاروں اور پھر چوں میں عربی اور انگریزی اشتہارات تقسیم کئے۔ایک ارمنی چرچ میں جس کے متعلق مشہور ہے کہ وہاں حضرت مسیح ناصری علیہ السلام واقعہ میں سے پہلے قید خانہ مں رکھے گئے تھے ایسے پانچ قید خانے بیت المقدس میں ہیں ، ہم نے پادریوں کو اشتہارات دیئے۔یہاں ایک سم شیخ طریقہ (پیر، اشیخ خلیل بھی موجود تھے جو اس چریح کے قرب وجوار میں رہنے والے تھے جب انہو نے ہمارے اشتہارات کو دکھا اور ان کے بیٹنگ پڑھے یعنی عیسائیوان مغیرہ کو روحانی مقابلہ کی دعوت بھی اور اسلامی تعلیم کا مقابلہ۔عیسائیوں سے نہیں سوالات۔آنحضرت صلی اللہ لیہ وسلم کی قدرت کا ثبوت با میل ہے۔توانہوں نے ہمارے تعلق خاص برچسپی لینا شروع کر دی۔چنانچہ جب ہم چرچ مذکور کے پادریوں سے فارغ ہوئے تو وہ ہمیں اپنے دولت خانہ پر لے گئے اور جس بے منقور عرب قہوہ غیرہ سے تواضح کی اُن سے دو گھنٹہ کے قریب مختلف موضوع سلسلہ عالیہ حمدیہ پرگفتگو ہوئی جس سے وہ خدا کے فضل سے متاثر ہوئے اور اپنے ہاں رات رہنے کیلئے بالخارج درخواست کی اور ہمارا مزید لٹریچر پڑھنے کیلئے مزید اشتیاق ظاہر کیا۔جبل زیتون پر بھی وفارت شیخ کے متعلق ایک اجتماع میں گفتگو کی گئی جو میں قریباً سب حاضرین نے جومسلمان تاجر تھے اس بات کو تسلیم کیا کہ آیت فلما توقی سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت شدہ ہیں۔وہاں میں مقام کے متعلق بعض مجاوروں نے مشہور کر رکھا تھا کہ وہاں حضرت مسیح علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے اور وہاں ایک مصنوعی قدم کا نشان بھی بنا رکھا ہے وہاں بھی گفتگو ہوئی۔اگرچہ ایک غنڈے نے یہاں رات کیا کیا گیا اور اور ان کی کمی نہ ہوگا۔خلیل میں جہاں حضرت ابراہیم و سارہ علیہا السلام اور پکے دیگر اعزہ اسحاق رفتہ یعقوب یوسف علیہم السلام کی قبریں ہیں علاوہ اشتہارات وغیرہ تقسیم کرنے کے افسرادقات اسلامیہ الشیخ توفیق بوب نے بھی خاص طور پر ملاقات کی گئی۔اور ان کو اشتہارات وغیرہ دیئے گئے نہیں دیکھ کر وہ بہت