تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 395 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 395

PAP اور استقامت کے ساتھ اُن کا مقابلہ کر کے جماعت احمدیہ جموں کے قیام کا باعث ہوئے۔۔۔۔۔۔اور چونکہ خدا کے فضل سے کاروبار کے سلسلہ میں حکام سے واسطہ پڑتا رہتا اس لئے حکام اور عوام میں جماعت اُن کے اثر و رسوخ کے طفیل ایک باوقار جماعت سمجھی جاتی تھی میتیں سلسلہ بلکہ افراد جیسا نہیں جتوں یا کشمیر ٹھہرنے یا جانے کا اتفاق ہوا ہے سبھی اس بات کے گواہ ہیں کہ احمدی احباب کی خاطر و مدارات کرنے میں وہ ایک گونہ راحت پاتے تھے۔اور ان کی خدمت کرنا بلکہ مالی امداد تک کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے اور خود کوشش کر کے دوستوں کو اپنے ہاں یہاں ٹھہراتے خدا کے فضل سے صاحب کشوف درد یا تھے حتی کہ خواب میں حضرت تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بھی کر چکے تھے یہ لے ۱۴ - میاں زین العابدین صاحب زیرا در خود حضرت حافظ حامد علی صاحب ، ساکن تصد غلام نبی ۶۱۹۴۲ ضلع گورداسپور (وفات ۲۸ ر تبوک دستمبر ۵ ها اجاء ه ۱۳۵۲۱ ۱۵۔ڈاکٹر عالم الدین صاحب کڑیانوالہ ضلع گجرات (وفات ۱۲ رای که اکتوبر ۱۹۳۲ -۱۶ - مرزا شریف اللہ خان صاحب نے موضع مانیری پایان تحصیل صوابی ضلع مردان - تعمیر ۶۷ سال) ولادت ام بیعت وفات در نبوت و نویر ها ) شاد ۶۱۹۲۲ آپ نے حضرت میاں محمد یوسف صاحب نے اپیل نویسی مردان کی کوشش سے احمدیت قبول کی۔بڑے خلیق۔مہمان نواز، خوش مزاج ، حاضر جواب ، متواضع اور جوانمرد انسان تھے۔تبلیغ کا بہت شوق تھا۔اور صوبہ سرحد میں اشاعت احمدیت کے لئے بڑی دلچسپی لیتے اور مالی امداد بھی کرتے رہتے تھے۔کہیے ۱۷- چوہدری غلام حیدر مصاحبت نمبر دار چک ۲۳ جنوبی ضلع سرگودها - روفات ۱۲ نبوت هر ۱۳۹۱ نومبر ۶۱۹۴۴ ۱۸ حافظ محمد امین صاحب تاجر کتب جہلم - محمد دونات فتح دو سمبر ها حضرت مولانا نور الدین خلیفہ المسیح الاوّل کے رضاعی بھائی تھے۔آپ کا نام ۳۱۳ اصحاب سیچ موجود پر درج ہے بیٹھے افضل از ستمبر ۶۱۹۴۲ + ه الفضل به رنج همه صفحه ۵۵۰ که ضمیمہ انجام به تیم منصور به م کالم ۳ ہم ہم ۲۰۰۳ الفضلي صلح ادا کا نام را نومبر ۱۹۴۲ جنوری ۶۱۹۴۳