تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 391
پاس رہا اور پھر ان کے ساتھ ہی جنوں آگیا۔جب حضرت مرزا صاحب کی خبر لی مین کی روایات کے واسطے قادیان گیا۔ایک عرصہ رہا۔جب حضرت مرزا صاحب نے بیعت لینی شروع کی تو میں نے بھی بیعت کرنی چاہی گرمتر مولوی نورالدین صاحب نے فرمایا کہ ہمارے داماد عبد الواحد پسر موادی عبد اللہ صاحب غزنوی ثم امرتسری کو پہلے سمجھانا ضروری ہے۔وہ بیعت کرنے وانوں کی بات کو نہ سنیگا تم ابھی بیعت نہ کرو اور اُسے سمجھاؤ۔میں اُسے سمجھاتا رہا مگر اس نے نہ مانا۔اور جب حضرت مسیح موعودہ دہلی سے واپس آئے تو میں نے بیعت کرلی۔اُس وقت نشان آسمانی " لکھی گئی تھی۔جب کشمیر میں ایک سخت ہیضہ ہوا اسوقت میں سری نگر میں ملازم تھا۔میری ڈیوٹی لگی کہ شہر کے مختلف حصوں میں پھر کر لوگوں کو صفائی اور علاج وغیرہ کی طرف متوجہ کروں۔اسوقت سری نگر کے محلہ خانیار میں مجھے معلوم ہوا کہ یہاں ایک قبر ہے جسے شہزادہ نبی یوز آسف کی قبر کہتے ہیں اور بعض اسے حضرت عیسی نہی کی قبر بھی کہتے ہیں۔میں نے حضرت مولوی صاحب کے پاس اس بات کی رپورٹ کی دو شنگر چپ ہو رہے۔اس کے بعد جب حضرت مولوی صاحب قادیان گئے اور ایک دفعہ اتفاقاً اس امر کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ اسلام سے ہوا تو حضرت صاحب نے مجھے بلوایا اور اس امر کی تحقیقات کے واسطے کشمیر بھیجا ایک لہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آئینہ کمالات اسلام صفحه ۶۲۷ - ۶۳۴) حجت الاسلام و صفحه ۵) ریه دهرم صفحه ضمیمه انجام انتم صفحه ۲۳۳) کتاب البرية (صفحه ، تحفہ گولڑویہ صفحه (۱۵) نزول است د صفحه ۱۳۲۲ - ۲۳۸) اور اشتہار ۴ اکتوبر شه رمشمولہ تبلیغ رسالت جلد ہشتم) میں آپ کا ذکر فرمایا ہے اور نہایت تعریفی کلمات سے نوازا ہے۔چنانچہ تحفہ گولڑویہ میں لکھا ہے : جب میں نے اس قصہ کی تصدیق کے لئے ایک معتبر مرید اپنا جو خلیفہ نور الدین کے نام سے مشہور ہیں کشمیر سری نگر مں بھیجا تو انہوں نے کئی مہینے رہ کر بڑی آہستگی اور تدبیر سے تحقیقات ہے کی۔آخر ثابت ہو گیا کہ فی الواقعہ صاحب قبر حضرت عیسی علمی اس کام میں جو اور اس کے نام سے مشہور ہوا۔تحقیق جدید معاق تبریسیح مؤلفه حضرت مفتی محمد صادق صاحب تاثر یکی تو تالیف دا شاعت قادیان طبع اول اکتوبر۔اس کتاب کے صفحہ ہے پر آپ در مقر ستری فیض احمد یار جونی کا فوٹو بھی موجود ہے ، ہے تحفہ گولڑویہ