تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 392
٣٨١ اسی طرح اپنے اشتہار ۱۲ اکتوبر شارہ میں تحریر فرمایا : ار - ار خلیفہ نور الدین صاحب ہیں جو ابھی محض مہینہ ایک خدمت پر مامور ہو کر کشمیر بھیجے گئے تھے اور چند روز ہوئے قائر الحرام ہو کر واپس آگئے ہیں۔میں اس تحقیقات کے متعلق ایک کتاب تالیف کر رہا ہوں جس کا نام ہے میسج ہندوستان میں " چنانچہ میں نے اس تحقیق کے لئے مخلصی محتی خلیفہ نور الدین صاحب کو جن کا ابھی ذکر کر آیا ہوں کشمیر میں بھیجا تھا تا کہ وہ موقعہ پر حضرت مسیح کی قبر کی پوری تحقیقات کریں۔چنانچہ وہ قریباً چار ماہ کشمیر میں رہ کر ہر ایک پہلو سے تحقیقات کرکے اور موقع پر قبر کا ایک نقشہ بنا کر اور پہار چھو چھپن آدمیوں کی اس پر تصدیق کرا کر کہ یہی حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر ہے جس کو عام لوگ شہزادہ نبی کی قبر اور بعض یوز آسف نبی کی قبر اور بعض عیسی صاحب کی قبر کہتے ہیں۔ار ستمبر شمارہ کو واپس میرے پاس پہنچ گئے۔سر کشمیر کا مسئلہ تو خاطر خواہ انفصال پا گیا۔اور پانچ سو چھپن شہادات سے ثابت ہو گیا کہ در حقیقت یہ حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر ہے جو سری نگر محلہ خانیار کے قریب موجود ہے " 001۔۵۵۶ (حاشیہ خلیفہ نورالدین صاحب کو خدا تعالے اجر بخشے کو اس تمام صفر اور رہائش کشمیر میں انہوں نے اپنا خرچ اٹھایا۔اپنی جان کو تکلیف میں ڈالا اور اپنے مال سے سفر کیا وہ حضرت خلیفہ صاحب اسید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض نشانوں کے بھی گواہ تھے۔بعض الہامات و رڈیا میں بھی آپ کا نام ملتا ہے یہ جنگ مقدس کے مباحثہ کی کاروائی آپ نے اور حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے قلمبند کی تھی۔حضرت ماسٹر عبد الرحمن صاحب نو مسلم (سابق مہر سنگھ) کا بیان ہے کہ : میں نے دیکھا کہ ایک ایک وقت میں آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ سلام کی خدمت میں پانچ پانچ سو روپیہ ناز پیش کیا۔جب سے آپ نے میر انہ طور پر چندہ میں حصہ لینا شروع کیا تب سے آپ کے کاروبار میں بھی خداوند کریم نے ترقی پر ترقی دی حضرت مسیح موعود علیہ السلام تبلیغ رسالت جلد شتم صفحه ۷۰ تا ۷۲ : ۵۲ لا خطہ ہو نزول المسیح و مه لا خطہ ہونا اسیح صفحه ۲۱۱ دتذکره طبع دوم صفحه ۲۴۹ - ۳۲۰ البدر در نومبر د هر دسمبر شده و موره را محکم و در نوار ها و نوری در کارهای اداری