تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 390
٣٧٩ ۶۱۹۴۲ ۱۰- حکیم عبدالرحمن صاحب محله مسیح فضل قادیان روفات ۲۵ اجرت هاللہ ہے پیر محمد شاہ صاحب آن شاه مسکین ضلع شیخو پوره (ولادت شراء بعت اور وفات یا ) - اپنے ماموں حضرت میاں معراج دین صاحب عمر کی تبلیغ سے احمدیت قبول کی۔19 ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام لاہور تشریف لائے تو آپ کو دور ان قیام حضور کی خدمت کا قیمتی موقعہ میسر آیا۔جن پر جوش مخلصین نے منٹگمرہی میں جماعت قائم کی اُن میں آپ بھی تھے مسجد محمدیہ منٹگمری آپ کی تبلیغی کوششوں اور جماعتی استحکام کی جدو جہد کی ایک عمدہ یاد گار ہے۔منٹگمری کے علاوہ آپ (لازم محکمہ نہر کی مشیت ہے ) کئی اور مقامات میں بھی رہے۔اور ہر جگہ احمدیت کا ایسا اچھا نمونہ پیش کیا کہ دشمن بھی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکے میں ۱۲ حضرت خلیفہ نورالدین صاحب جونی رولادت شله بکرمی مطابق ۵۲۵ بیعت ۲۷ دسمبر اشاره ۳۱۳ صحابہ کیا میں وفات اور تبوک د ستمبر، هلال الاول حضرت مسیح موعود علیہ سلام کے مقرب صحابی اور حضرت خلیفہ المسیح الاول مولانا نورالدین کے مایہ ناز شاگرد حضرت اقدس علیہ السلام دعوائے مسیحیت سے قبل جب حضرت مولانا نورالدین خلیفہ اول کی عیادت کے لئے جموں تشریف لے گئے تو حضور نے آپ ہی کے کمرہ میں قیام فرمایا تھا ئیں حضرت خلیفہ صاحب رضی اللہ عنہ اپنے حالات زندگی میں لکھتے ہیں:۔ئیں ابتدائے جوانی میں گجرات میں رہتا تھا۔اور اس وقت فرقہ اہل حدیث کا ابتدائی چرچا تھا اور پبلک میں اس کی سخت مخالفت تھی۔اُن کی باتیں معقول پا کر میں بھی اہل حدیث میں شامل ہو گیا۔ایک دفعہ سیال شریف جاتے ہوئے راستہ میں بھیرہ مولوی سلطان احمد صاحب مرحوم سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے ذکر کیا کہ میرا بھائی نورالدین نام مگر میں حدیث پڑھ رہا ہے۔اس طرح پہلی دفعہ میں نے حضرت مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ خلیفہ اسیح الاول کا حال سنا۔پھر جب میں نے سنا کہ مولوی صاحب مگر سے واپس بھیرہ آگئے ہیں تو میں انہیں ملنے کے واسطے گیا۔اور اُن کے عقائد اور تحقیقی مسائل سے متفق ہو کر ایک عرصہ اُنکے راسان همان مفجره ه الفضل ۲۸ بر صفحہ کالم ۲ + سے اب اس کا نام ساہیوال ہے : ٣ الفضل ۲۸ در ان ۶۱۹۴۲ جوان ۶۱۹۴۲ 147 د شخصاً مضمون سلطان محمود صاحب شاید بی ایس سی حال پروفیسر تعلیم الاسلام کالی دیوہ) سے الحکم ہے نومبر 1 صفحہ ۶۰۵ اس پرچہ میں آپ کی املاء کردہ سوانح حیات درج ہے۔+