تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 389
YLA 4 مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل مدیہ قرتان نے مندرجہ ذیل الفاظ میں آپ کو خراج حسین ادا کیا :- احمدیت کا پرانا جرنیل میسیج پاک کا غیور صحابی ، خلافت کا وفادار خادم اور دشمنان اسلام و سلسله کے سامنے ہمیشہ سینہ سپر ہونے والا سپاہی میں قاسم علی اور اپریل کی شب کہ فوت ہوگیا۔انا للہ - وانا اليه راجعون۔جناب میر صاحب مرحوم کی زندگی میں غیرت دینی کا ایک بہترین نمونہ موجود تھا جس طرح اپنی ذاتی مشارع کی حفاظت میں انسان پوری قوت خرچ کر دیتا ہے اسی طرح حضرت میر صاحب مقدور بھر اسلام و احمدیت کی خدمت کرتے رہے۔اللہ تعالے نے انہیں تحریر و تقریر میںخاص مل کر عطا فرمایا تھا۔اور طبعیت بھی نکتہ رس اور بذلہ سنج تھی۔تقریر کے وقت حاضرین کو مسحور کرلینا اور تحریر کے قارئین کی دبی تنگی کو اخیر تک قائم رکھنا اُن کا نمایاں وصف تھا۔بے شک حضرت میر قاسم علی صاحب نے طبعی عمر پائی اور جنت الفردوس کے دارث ہوئے لیکن انکی وفات ایک جماعتی صدمہ ہے اور ہر مخلص کے لئے رنجیدہ حادثہ۔زمانہ کی گردش ایسے جانباز خادمیم دین کے ذکر کو دلوں میں تازہ کرتی رہے گی اور رہتی دنیا تک احمدیت کی تاریخ میں میر قاسم علی کا نام عزت کے ساتھ یاد کیا جائیگا۔مجھے دیا مر طالب علمی سے ہی میر صاحب سے واقفیت ہے، میں نے انہیں ہمیشہ سلسلہ کی عزت کے لئے غیور مومن پایا۔غلطی انسان سے ہو جاتی ہے لیکن دینی غیرت کے ماتحت غلطی بھی انتظامی حصہ کو مستثنیٰ کرکے ایک خوبصورت فعل ہے۔میر صاحب کے کارنامے ایک طویل کتاب کے محتاج ہیں۔خدا جسے توفیق دے گا وہ آسمان احمدیت کے ان یکے بعد دیگرے نظروں سے اوجھل ہونے والے مگر ابلہ تک درخشندہ ستاروں کی تاریخ مرتب کو سیکی گا۔بہر حال میر صاحب مرحوم کی وفات سے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے پر نور چہرہ کہ دیکھنے والا ایک اور وجود کم ہو گیا۔اے اللہ ! تو جناب میر صاحب کے درجات کو لبناء فرما۔اور ان کے پسماندگان پر رحم فرما۔اور احمدیت کے جانباز سپاہیوں میں اضافہ فرماتا اسلام کا پرچم جلار تر دنیا کے سب ممالک پر لہرائے۔اللہم آمین ہونے ے رسالہ "فرقان" بجرت ها شمار دبئی ۱۹۳۳ ) صفحه ۳۳۲