تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 379 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 379

و نظر ڑھتے ہوئے باہمی مقابلہ اور تصادم کی مدت اب ختم ہوگئی اور نے نظام کا وقت آگیا ہے ٹرانک چارٹر کی نسبت فرمایا کہ اس سے بھی فائدہ نہ ہوگا۔نیز فرمایا کہ اگرچہ اصول کے لحاظ سے کیونزم کا اصول خوشکن معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخص سے اس کی مالی حیثیت کے مطابق نے کیا جائے اور ہر شخص کو اس کی ضرورتوں کے مطابق دیا جائے مگر عمل میں یہ کامیاب نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ ذاتی ملکیت سے محروم کرتا ہے اور اس سے انسان کا جوشی عمل ضائع ہو جاتا ہے۔نیز کمیونزم کے اصول میں یہ بڑا نقص ہے کہ وہ انسان کے وجدان روحانی کو خدا پرستی سے روک کر سخت صدمہ پہنچاتا ہے۔اس کے ساتھ آپ نے جرمنی، جاپان اور اٹلی کے آمرانہ طریق حکومت پر سخت اعتراض کیا اور کہا کہ یہ وحشیانہ تخیلات ہیں جن میں قومی منافرت ، تنگ نظری اور فوجی طاقتوں کا بھیانک مظاہرہ ہوتا ہے۔موجودہ جنگ ان ہی کے خراب منصوبوں کا نتیجہ ہے جن سے اُن کا یہ مقصد تھا کہ تمام دنیا پر غلبہ حاصل کریں اگر یہ کامیاب ہوئے تو انسانی تہذیب و تمدن برباد ہو جائے گا بلکہ مذہب بھی بٹ جائیگا حضرت امام جماعت احمدیہ نے ایک نہایت خوش نما منظر اس نظام کا پیش کیا جس پر بند جنگ دنیا کی تعمیر ہوگی۔آپ نے فرمایا کہ حد سے زیادہ مناتے نہیں لئے جائینگے دولت کے ڈھیر سود کے ذریعہ جمع نہ ہو سکیں گے۔اسلام اپنے قانون وراثت سے دالت کو سیع حلقہ میں تقسیم کرے گا اور روپیہ چند ہاتھوں میں جمع نہ ہو سکے گا۔زکواۃ ۲ فیصدی ٹیکس آمدنی پر ہی نہ ہوگی بلکہ اصل اور منافع دونوں پر ٹیکس ہوگا۔بہت سی صورتوں میں خالص منافع کا پچاس فیصدی تقسیم ہو گا۔ان کے علاوہ اسلامی حکومت کو اختیار ہے کہ وہ امد ذرائع سے بھی اپنا خزانہ پھر کرے۔لیکن باوجود اس کے اسلامی حکومت جوش عمل کو برقرار رکھنے اور بڑھانے کے لئے ذاتی ملکیت کو تسلیم کرتی ہے اور اسلام یہ سبق بھی دیتا ہے کہ قدرتی تمام اشیاء تمام انسانوں کی ملکیت ہیں اور ان پر کوئی خاص انسان قبضہ نہیں کر سکتے ہے سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا یہ سیکچر دختر تحریک جدید کی طرف سے نظام نو“ کے نام سے ه بحواله اختبار الفضل در صلح (جنوری ۱۲۳ ۱۳ صفحه -