تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 18 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 18

IA ۱۲۔ماہ فتح مقابل دسمبر۔اس مہینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر اپنے خونخوار دشمنوں کو لات تُريب عَلَيْكُم اليوم آپ کر عضو عام کا اعلان فرمایا۔قمری مہینوں کی تعیین ان واقعات کو ان شمسی مہینوں کی طرف منسوب کرتے وقت اس بات کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے کہ حجتہ الوداع کے موقعہ پر جو آنحضرت صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اعلان فرمایا تھا کہ آئندہ مہر ایک قمری سال بارہ مہینوں کا شمار ہوگا۔اس سے پہلے عرب میں ہو تاریخ شماری کا یہ طریق قریباً دو اڑھائی سو سال سے بھاری تھا کہ مہینے قمری گھنے بھاتے تھے اور سال شمسی۔اور ان دونوں شماروں کو ملانے کے لئے ہر آٹھ سال میں تین سال ۱۳ - ۱۳ ماہ کے شمار کئے کھاتے تھے۔اس کی بناء پر سب نت کے ابتدائی دس سالوں میں چار سال ۱۳۱۳ مہینوں کے گئے گئے تھے اور وہ اس طور پر کہ نویں طور اور دسویں سنہ کے درمیان یعنی ان میں ایک سال کے اختتام اور دوسرے سال کے آغاز کے موقعہ پر ایک مہینہ زائد شمار کیا گیا جس سے پہلے، ساتویں اور آٹھویں سال کے درمیان اور ان سے پہلے، چوتھے اور پانچویں سال کے درمیان اور اس سے قبل پہلے اور دوسرے سال کے درمیان ایک ایک مہینہ زائد شمار کیا گیا تھا۔پس ابتدائی دس ہجری سالوں کا عرصہ ۱۲۰ قمری مہینوں کا نہیں بلکہ ۱۲۴ قمری مہینوں کا شمار ہوا تھا۔تقویم قمری کا اجمالی خاکہ اس تقویم میں نئے قمری دور کا آغازہ سنہ ہجری کے شروع سے شمار کیا گیا ہے۔اور ۳۰ - ۳۰ دنوں اور ۲۹ - ۲۹ دونوں کے قمری مہینوں کی تعیین کے لئے قمری مہینہ کی اوسط مقدار کو سامنے رکھا گیا ہے اور تواریخ کی تعین کے لئے ایک طرف اس بات کو پیش نظر رکھا گیا ہے کہ مجتہ الوداع کے دن یعنی و ذو الحمد سنہ ہجری کو جمعہ تھا۔اور دوسری طرف یہ کہ ابتدائی دس ہجری سالوں میں سے پہلا مہینہ جمعہ کے روز شروع ہوا تھا۔اور پانچواں مہینہ (جو ہر ایک سال کو بارہ ماہ کا شمار کرنے کی صورت میں سندھ کا پہلا مہینہ ہوتا ہے، پنجشنبہ کو یعنی جمعرات کے روز اور طول البلد کی رو سے بیت اللہ