تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 17
12 حاتم کے ساتھ ان کی قومی نسبت کی وجہ سے از راہ کرم و احسان آزادی بخشی۔ماہ وفا بمقابل جولائی۔اس نہینہ میں غزوہ ذات الرقاع ہونا تھا جس میں سفر کی شدت اور سواری کی کمی کی وجہ سے پیدل چلنے کے باعث صحابہ کرام کے پاؤں چھلنی ہو گئے اور صحیح بخاری کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ کے تو پاؤں کے ناخن بھی جھڑ گئے اور انہوں نے اپنے کپڑے پھاڑ پھاڑ کر اور پاؤں پر پیٹ پیٹ کر اس کا راستہ طے کیا اور اسی وجہ سے اس مہم کا نام ذات الرقاع مشہور ہو گیا اور اسی موقع پر صلوۃ الخوت کا حکم نازل ہوا۔غرض اس جنگ میں بھی صحابہ کرام نے خارق عادت طور پر اپنے صدق و وفا اور تسلیم و رضا کا نمونہ دکھایا تھا۔- ماہ ظہور بمقابل اگست۔اس مہینہ میں جنگ موتہ کے سلسلہ میں آنحضرت صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ سے اللہ تعالیٰ نے بیرون عرب میں اسلام کی اشاعت اور ظہور یعنی غلبہ کی بنیاد رکھوائی۔اس واقعہ سے قبل آپ نے ہرقل کے مقرر کردہ امیر بصری کی طرفت حضرت حارث ابن عمیر ان دی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ ایک تبلیغی خط بھیجا تھا۔جب وہ موتہ کے مقام پر پہنچے تو شرحبیل غستانی نے انہیں باندھ کو قتل کر دیا جس پر حضور نے اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی امارت کے ماتحت تین ہزار صحابہ کرام کی فوج وہاں بھیجی۔اور ارشاد فرمایا کہ اگر زید شہید ہو جائے تو اس کی جگہ جعفر بن ابی طالب لے لے۔وہ شہید ہو جائے تو عبداللہ بن روائحہ اس کی جگہ پر کھڑا ہو جائے اور وہ شہید ہو جائے تو مسلمان اپنے میں سے کسی کو امیر بنا لیں اور اسی ترتیب سے وہ اس جنگ میں شہید ہوئے۔- ماہ تبوک بمقابل ستمبر۔اس مہینہ میں جنگ تبوک کے موقعہ پر مخلصین کے اخلاص کا مختلف صورتوں میں امتحان ہوا۔اور انہوں نے اپنے اپنے رنگ میں اعلیٰ سے اعلی جو ہر ایمان رکھتے۔۱ ماه اخاء بمقابل اکتوبر۔اس مہینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جہا جرین اور انصار میں سے ایک، ایک مہاجر اور ایک ایک انصاری کے درمیان خاص طور پر اخوت کا تعلق قائم کیا جس کے نتیجہ میں مہاجرین اور انصار کے تعلقات سگے بھائیوں سے بھی بڑھ کر ہو گئے۔11 ماہ نبوت بمقابل تو میر۔اس مہینہ میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کو منصب نبوت و رسالت بخشا۔