تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 357
ہاتھ میں جو تلوار تھی وہ ذکر الہی کے کارخانہ سے نئی نئی بن کر آئی تھی۔جسے نہ کوئی زنگ لگا تھانہ چربی وغیرہ کوئی چیز لگی تھی۔مبلغ جو تلوار استعمال کرتا ہے وہ کسی پرانی فیکٹری میں بنی ہوئی ہوتی ہے۔جسے دندانے اور نشان وغیرہ پڑھکتے ہیں اور جو پہلے استعمال ہو چکتے کی وجہ ہے خراب ہو چکی ہے اور پرانی ہونے کی وجہ سے اُس کے مینڈل کو کیڑا لگا ہوا ہے۔یہ اُسے مارتا ہے تو بجائے دوسرے کو نقصان پہنچانے کے خود ہی ٹوٹ کر گر جاتی ہے۔دوسرے اثر تبلیغ اور دلیل سے ہی نہیں پڑتا بلکہ اس کے پیچھے جو جذبہ ہوتا ہے اس کا اثر ہوتا ہے ایک بزرگ کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جہاں وہ رہتے تھے اُس محلہ میں ایک بہت فسادی اور شریعہ آدمی تھا جو ہر وقت عیاشی میں مصروف رہتا۔اور دین سے ہمیشہ مذاق کرتا تھا وہ اُسے بہت سمجھاتے تھے مگر اُس پر کوئی اثر نہ ہوتا تھا۔وہ بزرگ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں حج کے لئے گیا۔تو اُسے دیکھا کہ نہایت عجز و انکسار کی حالت میں طواف کر رہا ہے۔جب فارغ ہوئے تو اس بزرگ نے اس سے دریافت کیا کہ یہ کیا بات ہے کہ تم حج کے لئے آگئے ہا تم تو دین سے مذاق کیا کرتے تھے اور کسی نصیحت کا تم پر اثر ہی نہ ہوتا تھا۔اُس نے کہا۔میری ہدایت کا واقعہ یہ ہے کہ ایک دفعہ میں بازار میں جا رہا تھا۔عیاشی کے خیالات میں محو تھا اور عیش و طرب کے مرکزہ کی طرف ہی جا رہا تھا کہ ایک مکان میں کوئی شخص قرآن شریف بلند آواز سے پڑھ رہا تھا کہ آیت اکستر يَاتِ لِلَّذِينَ آمَنُوا اَنْ تَخْشَى قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ الله میرے کان میں پڑی یعنی کیا مومنوں کے لئے بھی وہ وقت نہیں آیا کہ جب اُن کے دل خدا تعالے کے ذکر کے لئے نرم ہو جائیں اور وہ ذکر الہی شروع کر دیں۔اس آواز میں ایسا سوز و گداز اور ایسی محبت تھی کہ مجھے یوں معلوم ہوا کہ وہ دنیا میں سے کسی انسان کی آواز نہ تھی۔اُس آواز کو سنتے ہی میں گویا اُڑ کر کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔اُسی وقت گھر آیا اور عیش و طرب کے سب سامان توڑڈا سے اور حج کے لئے روانہ ہو گیا۔یہ قرآن کی یہی آیت ہے جو کئی لوگ پڑھتے اور سُنتے ہیں مگر ان پر کوئی خاص اثر نہیں ہوتا لیکن یہی آیت جب ایک ایسے دل سے نکلی جو ذکر الہی سے سرسبز اور شاداب تھا تو سننے والے پر ایسا اثر کیا کہ اسکی زندگی میں گویا ایک افق مہیا کردیا۔