تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 351
جھڑ ہیں ہو جایا کرتی ہیں۔ان معمولی ہر اول دستوں کی جنگوں کو بڑی جنگ سمجھنا غلطی ہے ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب احمدیت کو دوسرے تمام مذاہب کے مقابلہ میں ڈٹ کر مقابلہ کرنا پڑے گا۔تب دنیا کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا اور تب دنیا کو معلوم ہوگا کہ کونسا مذہب اس کی نجات کے لئے ضروری ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ یہ تلوار کی جنگ ہوگی مگر تمیں یہ ضرور کہونگا کہ یہ مضبوط دلوں کی جنگ ہوگی اور دلوں کی مضبوطی اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتی جب تک انسان خطرات میں اپنے آپ کو ڈالنے کے لئے تیار نہ ہو جائیں۔پس ہر جگہ جہاں کوئی شخص ڈوب رہا ہو وہاں ایک احمدی کو سب سے پہلے کہ دنا چاہئیے۔اس لئے بھی کہ دہ مسلمان یا سکھ یا عیسائی یا انہار و اس کا ایک بھائی ہے جس کو بچانا اس کا فرض ہے اور اسلئے بھی کہ اُس کے اندر جرات اور بہادری پیدا ہو۔ہر جگہ جہاں آگ لگ گئی ہو وہاں ایک احمدی کورس آگ کے مُجھانے کے لئے سب سے پہلے پہنچنا چاہیئے۔اس لئے بھی کہ جس کے گھر کو آگ لگی ہے وہ خواہ مسلمان ہے یا ہندو ہے یا سکھ ہے یا عیسائی ہے بہر حال اس کا ایک بھائی ہے اور اس لئے بھی کہ اُس کے نفس کو آگ میں کودنے کی مشق ہو اور جرات اور دلیری اُس کے اندر پیدا ہو۔اسی طرح ہر جینگ جو وطن کی حفاظت کے لئے لڑی جائے اس میں ایک احمدی کو سب سے پہلے شامل ہونا چاہیئے اس لئے بھی کہ وطن کا حق ہے کہ اسکی حفاظت کے لئے جان دی جائے۔اور اس لئے بھی کہ اس کے اندر جرات اور بہادری پیدا ہو اور جب شیطان کی جنگ خدا تعالٰی کی فوج کے ساتھ ہو تو اُس وقت وہ اس جنگ میں خدا تعالٰی کے لئے اپنی جان کو قربان کرنے والا ہو۔جو شخص آج اپنے آپ کو اس رنگ میں تیار نہیں کرتا۔جو شخص آج اپنے نفس کی اس طرح تربیت نہیں کرتا۔جو شخص آج اپنے اندر یہ جرات اور دلیری پیارا کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا کل اُس پر کوئی امید نہیں کی جاسکتی۔وہ کچے دھاگے کی طرح ٹوٹ جائے گا۔اور اس کی زبان کے دعوے اُسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گے ہاسے جنگ میں بھرتی ہونے کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے اور سیکسانہ کے بعض اور کارکنوں نے ملک کے وسیع دورے کئے جس کے نتیجہ میں قریباً سولہ ہزار احمدی جنگ میں بھرتی ہوئے۔الفضل ناه ۱۳۵۲ ( ۲۲ بنائی اور و صفحه ه و ه ج له الفضل ا / ا ١٩٢٥د اکتوبر ۱۹۹۳ حضرت امیرالمومنین خلیفة المسیح الثانی فرموده درا خار ۳۳۳۵ (۵ را کتوبر ۱۹۳۵) مغیرہ کالم اور خطیبه تی عیر