تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 339
۳۲۹ اینا ان کو مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں۔اس کا مطلب یہی ہے کہ خدا تعالٰی نے جو کام فرشتوں سے لینا تھا گئے کرنے کے لئے وہ آگے بڑھتے ہیں اسلئے وہ فرشتے بن جاتے ہیں۔اور جب وہ فرشتے ہو گئے تو مر کیسے سکتے ہیں۔فرشتے نہیں مرا کرتے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ شہداء کے متعلق فرماتا ہے کہ وہ مردہ نہیں بلکہ زندہ ہیں اور اپنے خدا کے حضور رزق دیئے جاتے ہیں۔پس گران مقامات کی حفاظت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ مسلمان اُن کی حفاظت کے فرض سے آزاد ہو گئے ہیں۔بلکہ ضروری ہے کہ ہر سچا مسلمان اُن کی حفاظت کے لئے اپنی پوری کوشش کرے جو اُس کے بس میں ہے یا ملے خطبہ کے آخر میں حضور نے خاص تحریک فرمائی کہ احمد می مالک اسلامیہ کی حفاظت کیلئے نہایت تفریح اور عاجزی سے دعائیں کریں۔چنانچہ حضور نے فرمایا :- یہ مقامات روز بروز جنگ کے قریب آرہے ہیں اور خف را تعالٰی کی مشیت اور اپنے گناہوں کی شہادت کی وجہ سے ہم بالکل بے بس ہیں اور کوئی ذریعہ ان کی حفاظت کا اختیار نہیں کر سکتے، ادنی ترین بات جو انسان کے اختیار میں ہوتی ہے یہ ہے کہ اس کے آگے پیچھے کھڑے ہو کر جان دیارے گریم تو یہ بھی نہیں کر سکتے اور اس خطرناک وقت میں صرف ایک ہی ذریعہ باقی ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالے کے حضور دعائیں کریں کہ وہ جنگ کو ان مقامات مقدسہ سے زیادہ سے زیادہ دور لے جائے اور اپنے فضل سے اُن کی حفاظت فرمائے۔وہ خدا جس نے ابرہہ کی تباہی کے لئے آسمان سے دبا بھیجدی تھی اب بھی طاقت رکھتا ہے کہ ہر ایسے دشمن کو جس کے ہاتھوں سے اس کے مقدس مقامات اور شعائر کو کوئی گزند پہنچ سکے کچل دے۔پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی زمہ داریوں کو سمجھیں اور خدا تعالٰی سے دعائیں کریں کہ وہ خود ہی ان مقامات کی حفاظت کے سامان پیدا کر دے۔اور اس طرح دُعائیں کریں جس طرح بچہ بھوک سے تڑپتا ہوا چلاتا ہے جس طرح ماں سے جُدا ہونے والا بچہ یا بچہ سے محروم ہو جانے والی ماں آہ و زاری کرتی ہے اسی طرح اپنے رب کے حضور رو رو کر دعائیں کریں کہ اسے اللہ ، توخود ان مقدس مقامات کی حفاظت فرما۔اور ان لوگوں کی اولادوں کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جائیں فدا کر گئے ا • الفضل رفاهی جولائی ۱۹۳۲ء صفحه ۳ و۴ دوم