تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 15 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 15

ہجری کسی سال کا آغاز اور اس کے دنوں کی اس کے مہینوں پر قسیم - مروجہ عیسوی کیلنڈر کا کوئی نیا سال حبس روز سے شروع ہو گا اسی روز سے ہجری شمسی سال کا آغاز شمار ہوگا۔اور سال کے دنوں کی تقسیم بھی مہینوں پر مروجہ عیسوی کیلنڈر کی طرح ہی ہوگی اور لیپ سال بھی وہی شمار ہوں گے جو مروجہ عیسوی کیلنڈر میں شمار کئے جاتے ہیں۔اور پہلے ہجری شمسی سال کا آغاز بھی سلاہ کے آغاز کے وقت سے محسوب ہوگا۔لیکن چونکہ عیسوی کیلنڈر کے سابقہ طریق شمار میں غلطی سے ہر صدی میں لیپ کے ۲۵ سال گنے جاتے تھے اور ساتویں صدی عیسوی کے آغاز کے وقت تک اس غلطی کی وجہ سے تین دن زائد شمار ہو چکے تھے اس لئے مسلمش (ہجری شمسی) کے آغاز کے دن کی عیسوی تاریخ یکم جنوری یہ نہیں بلکہ ۲۹ دسمبر ۱۳۷ محسوب ہوگی۔اور چونکہ اس کے بعد بھی سلاید تک یہ غلط طریق شمار برابر جاری رہا اس لئے یہ فرق بڑھتا چلا گیا اور سولھویں صدی عیسوی میں دس دن تک پہنچ گیا اور شہداء میں آکر اس غلطی کی اصلاح کی طرف توجہ کی گئی مگر وہ بھی بیک وقت نہیں بلکہ مختلف ممالک میں سے ادا سے لے کر قریباً ساڑھے تین سو سال کے لیے عرصہ میں مختلف اوقات میں مختلف طریقوں سے اس کی اصلاح کی گئی حتیٰ کہ بعض اقوام نے اب بیسویں صدی میں آکر اس اصلاح کا اجراء کیا ہے جبکہ یہ فرق تیرہ دن تک پہنچ چکا تھا۔ہاں اب چونکہ اس فرق کا ازالہ کیا جا ہوچکا ہے اس لئے مروجہ عیسوی کیلنڈر کے کسی سال اور کسی مہینہ کے آغاز کے دن اور اس کے مقابل کے ہجری شمسی سال اور مہینہ کے آغاز کے دن میں اب کوئی فرق نہیں ہو گا اور شاہ پیش کے آغاز کا دن وہی محسوب ہوگا جو ستار کے آغاز کا دن تھا۔ہجری شمسی مہینوں کے نام۔ہجری شمسی سند کے مہینوں کے نام حضور نے حسب ذیل منظور فرمائے ہیں :۔- ماه صلح بمقابل جنوری۔اس مہینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک رویا کی بنا پر تین ہزار صحابہ کرام کی محبت میں عمرہ کے لئے بیت اللہ شریف کی طرف روانہ ہوئے مگر کفار قریش