تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 326
لہ کی تحریک کے دو اہم اعراض مصور حضور کے منظر اس اہم تحریک کی لو اعراض نہیں۔جن کی حضور نے خود ہی وضاحت فرمائی کہ : اس اعلان کے کرنے میں میری دو غرضیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔ایک تو یہ کہ قرآن کریم نے خرچ کرنے کی مختلف اقسام بیان فرمائی ہیں۔اُن اقسام میں سے ایک قسم خرچ کی اپنے دوستوں اپنے رشتہ داروں اور اپنے بھائیوں کی امداد ہے۔اگر یہ اخراجات ان معنوں میں صدقہ نہیں کہلاتے جن معنوں میں غرباء کو روپیہ دینا صدقہ کہلاتا ہے۔عربی زبان میں صدقہ کا مفہوم بہت وسیع ہے اور اس میں صرف اتنی بات داخل ہے کہ اپنے اس فریج کے ذریعہ سے اس تعلق کا ثبوت دیا جائے جو انسان کو اپنے پیدا کرنے والے سے ہے۔صدقہ کے معنے خدا تعالیٰ سے اپنے بچے تعلق کا اظہار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔تو صدقہ کی کئی اقسام ہیں اور لوگ عام طور پر قرآنی صدقہ کی بہت سی قسموں سے غافل ہوتے ہیں۔پس اس تحریک سے میرا ایک مطلب تو یہ ہے کہ عربی زبان میں صدقہ کا جو مفہوم ہے وہ بھی پورا کرنے کا دوستوں کو موقعہ بل جائے اور یہ مفہوم یہ نہیں کہ رو بلا کے لئے خرچ کیا جائے بلکہ یہ ہے کہ خداتعالی کی خوشنودی کے لئے خروج کیا جائے۔پس میرا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جن دوستوں کو پہلے ایسا خرچ کرنے کا موقعہ نہیں ملا انہیں اس کا موقع مل جائے اور نیکی کا یہ خانہ خالی نہ رہے۔دوسری عرض میری یہ ہے کہ ہماری جماعت میں جہاں بھی اور باہر بھی بعض سادات قابل اعداد ہیں اور سادات کو معروف صدقہ دینا منع ہے۔پس اگر یہ انہی معنوں میں صدقہ کی نیت سے دیا جائے جو ہمارے ملک میں اس کا مفہوم ہے تو اس سے ہم سادات کی مدد نہیں کر سکتے۔ہاں ہدیہ اور تحفہ سے ان کی مدد بھی کر سکتے ہیں۔تحفہ انسان ماں باپ بھائی بہن بیوی بچوں دوستوں رشتہ داروں غرضیکہ سب کو دے سکتا ہے۔پس میری یہ دو اغراض ہیں جن کی وجہ سے میں نے کہا ہے کہ جو دوست میری اس تحریک میں حصہ لیں وہ صدقہ کی نیت نہ کریں بائے اس اہم تحریک پر قادیان میں سب سے پہلے مولوی ملک سیف الرحمن صاحب ، مولوی عبد الکریم مهتاب د این حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب اور میاں مجید احمد صاحب ڈرائیور نے وعدے بھجوائے جس پر سے لفضل در م شهدا ۲۰ خطبه جمعه فرموده ۲۹ اکیست ها جون ۱۹۴۲ء