تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 319 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 319

٣٠٩ لیکن یہ ہندوستانی اس سوال سے مستفید ہوتا نہیں چاہتا تھا بلکہ وہ تو اس فتوی کو باقاعدہ قانونی طریقہ سے حاصل کر کے اپنے دعا دی کے اثبات میں بطور ایک دلیل اور سہارا بنانا چاہتا تھا۔اس کا یہ خیامد کارگر ہو گیا اور دنیا کے عجائبات میں سے ایک اعجوبہ ہوگیا ہے بلکہ یہ حجامہ اپنی نوع کے کیا کہ اول نمبر پر ہے۔یہ وہ اعجوبہ ہے جس سے ایک اندھے ہندہ ستمانی نے ایک عالم کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا چنانچہ الرسالة والرواية کے ۴۶۲ صفحہ میں ایک فتونی شیخ محمود شلتوت کے دستخطوں سے شائع ہوا ہے جس کا عنوان رفع عیسی ہے اور اس فتوئی کا مضمون یہ ہے کہ عیسی علیہ السلام حقیقی موست سے وفات پاچکے ہیں۔اور آپ کا رفع آسمان کی طرف نہیں ہوا۔اور نہ ہی وہ آخری زمانہ میں نزول فرمائیں گے۔اور اس بارہ میں جتنی احادیث وارد ہیں وہ احاد کا درجہ رکھتی ہیں اور عقائد کے بارہ میں احاد کا کوئی درجہ نہیں۔نیز یہ راویت وہب بن منبہ اور کعب الاحبار کی ہے اور ان دونوں کا درجہ محدثین کے نزدیک معروف ہے یعنی غیر مقبولین اور غیر ثقتین۔یہ وہ فتوئی ہے جس نے امت محمدیہ کے اجتماع کو پاش پاش کر دیا ہے اور احادیث متواترہ کے خلاف ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ فتویٰ اس وجہ سے ایک بہت بڑی مصیبت اور ایک اہم واقعہ ہے۔اس فتوی میں پہلی غلطی تو یہ ہے کہ اس کا دینے و الا جلد باز معلوم ہوتا ہے۔کیونکہ جب قاری اس فتویٰ اور غیر مصر کے علماء کی تحقیق کے درمیان موازنہ کرے گا تو وہ مندر جو دیل امور پر پہنچنگا کہ جامعہ ازہر کو علم حدیث سے کوئی تعلق نہیں۔یہ نتیجہ اس سے نکلتا ہے کہ مفتی نے دعوی کیا ہے کہ نزول عیسی علیہ السلام کی حدیث احاد میں سے ہے۔دوسرے اُسے اس حدیث کی صحت میں شک ہے جو کہ بخاری شریعت اور سلم میں موجود ہے۔سقوم وہ مفتی کہتا ہے کہ حدیث نزول دھتب اور کعب سے مروی ہے۔چہارم اس کا یہ دعوی ہے کہ یہ دونوں راوی ضعیف ہیں۔حلانکہ اُن کی احادیث صحیح ہیں۔اور پنجم یہ کہ احادیث نزول میں اضطراب پایا جاتا ہے۔دوم - از سر میں کوئی ایسا فرد نہیں پایا جاتا جو اجماع اور خلافت کے مواقع کو جانتا ہو کیونکہ مفتی نے حضرت عیسی علیہ اسلامہ کے رفع اور نزول سے انکار کیا ہے۔دوم یہ کہ احاد اعداد بیش مقامہ اورمفید بات میں عمل نہیں ہوتا۔یہ وہ امور ہیں جو قاری کے ذہن میں موازنہ کرنے سے پیدا ہوتے ہیں۔اور اس مقتدی کو ان نہر کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کیونکہ از ہر کے علماء کبارمیں سے۔