تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 318
۳۰۸ اور آخری زمانہ میں اترنے کا منکر ہے وہ کسی ایسی بات کا منکر نہیں جو کسی قطعی دلیل سے ثابت ہو پس ایسا شخص اپنے اسلام و ایمان سے ہرگز خارج نہیں ہوتا۔اور اُس کو مرتد قرار دیا مرز سیب نہیں بلکہ وہ پکا مومن مسلم ہے۔جب وہ فوت ہوگا تو مومن ہو گا۔اس کی نماز جنازہ اسی طرح پڑھی جائے گی جس طرح مومنوں کی پڑھی جاتی ہے اور اُسے موسموں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔اللہ کے نزدیک ایسے شخص کے ایمان میں کوئی داغ نہیں ہے۔اللہ اپنے بندوں کو جانے والا اور دیکھنے والا ہے۔باقی رہا استفتاء میں مندرج آخری سوال کہ اگر حضرت عیسٹی دوبارہ آئیں گے تو اُن کے منکر کا کیا حکم ہوگا ؟ تو ہمارے مندرجہ بالا بیان کے بعد اس سوال کا کوئی موقعہ ہی نہیں اور یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔واللہ اعلم محمود شلتوت فوی کار و عمل اس فتوی کا منظر عام پر آنا ہی تھا کہ مصر کے قدامت پرست علماء نے علامہ محمود شہتوت کے خلاف مخالفت کا زبردست طوفان کھڑا کر دیا اور اخبارات میں سب و شتم اور طعن و تشنیع سے بھرے ہوئے سخت اشتعال انگیز مضامین شائع کئے اور لکھا کہ یہ فتوی قادیانیوں کی موافقت میں ہے اور یہی وہ کامیاب ہتھیار ہے جس سے قادیانی ہمارے ساتھ مباحثات و مناظرات کرتے ہیں اور یہ نتونی قادیانیت کی عظیم الشان فتح ہے اس لئے ازہر کو چاہیئے کہ اس کو واپس لے لے۔علماء مصر از ہر نے اس فتوئی پر کس قدر گھبراہٹ اور پریشانی کا اظہار کیا ؟ اس کا اندازہ لگانے کے لئے ذیل میں فضيلة الاستاذ الشيخ عبدالله محمد الصديق الغماری کے ایک مضمون کے بعض اہم اقتب سانے کا اردو ترجمہ دیا جاتا ہے۔الشیخ محمد الصادیق الغماری نے لکھا :- ایک ہند وستانی عبدالکریم نامی نے ایک سوال مشایخ از ہر کے نام ارسال کیا جس میں یہ دریافت کیا گیا کہ آیا حضرت عیسی علیہ السلام از روئے قرآن کریم دحدیث زندہ ہیں یا وفات یا فتنہ۔یداس سوال کا خلاصہ ہے۔اگر مسائل کا مقصد استفادہ اور استر شاد کا ہوتا تو وہ اس سوال کا جواب ان ہندوستانی علماء کی کتب میں دیکھتا جو اس موضوع میں اردو اور عربی زبان میں تحریر کی گئی ہیں۔نے جناب شیخ نور احمد صاحب بیر به آن با ریہ کے ایک مفصل مضمون (مطبوعہ الفضل دفادر جولائی تا ہے، احمد بلاد