تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 314 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 314

۳۰۷ بطور نمونہ یہ ہیں :- قُلْ يَتَوَنَكُمْ مَلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي رُكَلَ بِكُمْ إِنَّ الَّذِينَ تَوَثُهُمُ الْمَلِئِكَةُ قَدِيمِي فيهِمْ وَلَوْ تَرَى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا الْمَلَائِكَةُ ، تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا، وَمِنكُمْ مَنْ يَتَوَفَّى + حَتَّى يَتَوَتهُنَّ الْمَوْتُ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَ الْحَقْنِي بِالصَّالِحِيْنَ۔اور آیت قرآنی فَلَمَّا تَوَخَيْتَنِي كُنتَ أنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ میں لفظ تو ذَيْتَنِي کا حق ہے کہ اسے مذکورہ بالامتیا در معنوں پر ہی محمول کیا جائے اور وہ یہ کہ توفی کے معنے موت کے ہیں۔اس لفظ کے یہ معنے تمام لوگ جانتے ہیں اور خود لفظ توفی سے نیز آیت کے سیاق سے بھی سب عربی بولنے والے یہی معنی سمجھتے ہیں۔اندریں صورت اگر اس آیت میں کچھ اور نہ ملایا جائے جس سے بیچ کے انجام کی وضاحت کی جائے تو یہ کہنے کی ہرگز گنجائش نہیں ہے کہ حضرت مینٹی نوت نہیں ہوئے یا یہ کہ ہندہ ہیں۔اس آیت میں اس رکیک تادیل کا بھی موقعہ نہیں کہ وفات سے مراد اس جگہ وہ وفات ہے جو آسمان سے اترنے کے بعد واقع ہوگی۔یہ تا دیل وہ لوگ کرتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ حضرت علیلی آسمان میں زندہ ہیں اور وہی آخری زمانہ میں آسمان سے اترینگے کیونکه زیر نظر آیت واضح طور پر اس تعلق کی حد بندی کر رہی ہے جو ان کا اپنی قوم سے تھا باقی وہ لوگ جو آخری زانہ میں ہیں وہ تو بالاتفاق حضرت محمدصلی الہ علیہ وسلم کی قوم ہیں کہ حضرت عیسی کی قوم اسے اپنے حضرت عیسی کا کیا تعلق ؟ سورۂ نساء کی آیت میں بلا رفعه الله مالی" آیا ہے۔بعض ملکہ اکثر مفسرین نے اس کی تفسیر آسمان پر اٹھائے جانے کے ساتھ کی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے مسیح کی شکل کسی اور پر ڈال دی اور انہیں جسم سمیت آسمان پر اٹھالیا۔وہ اب آسمان میں زندہ ہیں۔وہاں سے آخری زمانہ میں اتریں گے۔سٹوروں کو قتل کرینگے اور کیوں کو توڑیں گے مفترین اپنے اس عقیدہ کی بنیاد اول تو ان روایات پر رکھتے ہیں جو بناتی ہی کہ عیسی درقبال کے بعد نازل ہونگے۔یہ روایات مضطرب ہیں۔ان کے الفاظ اور معانی میں اتنا شدید اختلاف ہے کہ تطبیق ناممکن ہے خود علماء حدیث نے اس کی تصریح کی ہے۔علاوہ ازیں یہ وہب بن منبہ اور کعب الاحبار کی روایات ہیں جو اہل کتاب میں سے مسلمان ہوئے تھے۔علماء جرح و تعدیل کے نزدیک ان راویوں کا جو درجہ ہے وہ آپ خود جانتے ہیں۔دوسری بنیاد مفسرین کے نزدیک حضرت ابو ہریرہ کی وہ روایت ہے جس میں انہوں نے نزول عیسی کی خبر دیہ کرنے پر مصر کیا ہے۔یہ حدیث اگر صحیح بھی ہو تو بھی حدیث احاد ہے اور علماء کا اسپر اجتماع ہے کہ احادیث احاد