تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 306 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 306

۲۹۶ کی نہیں ہو سکتی ہاں ایک خود غرض اور نفس پرست انسان کی ہو سکتی ہے مگر اس سے کسی قسم کی اصلاح کی توقع بالکل فضول ہے۔افسوس مسلمانوں کی پراگندہ حالی نے اُن سے قوت غور و فکر بھی سلب کرلی ہے۔وہ اوّل تو اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتے۔اور اگر متوجہ ہوتے ہیں تو اس قسم کی سکیمیں بناتے اور ایسی تجاویز کے پیچھے پڑتے ہیں جو نہ تو قابل عمل ہوتی ہیں اور نہ اُن کا کوئی اچھا نتیجہ نکل سکتا ہے حکومت انگریزی سے تنخواہ دار شیخ الاسلام مقرر کرانے کی التجا ت بھی ایسی ہی ہے۔اس سے یہ تو ممکن ہے کہ کسی عالم کہلانے والے کو معقول تنخواہ مل جائے اور وہ اپنے ڈھب کے مولویوں کو اپنے ماتحت عہدیدار مقرر کر کے حکومت کے تنخواہ دار ایجنٹ بنا دے۔لیکن اس طرح مسلمانوں کی دینی لحاظ سے اصلاح ہو سکے اور دنیوی لحاظ سے وقار حاصل کر سکیں، قطعا محال ہے۔کاش مسلمان حکومت برطانیہ نے شیخ الاسلام منظور کرانے کی بجائے خدا تعالیٰ کے حضور سچے دل سے التجا کریں کہ اہلی نہیں کسی ایسے صلح کا امن پکڑنے کی توفیق عطا فرما جسے تو نے ہمارے لئے مقر گیا ہو اور اسکی اطاعت کے لئے ہمارے دل کھول دیے تا کہ ہم تیرا قرب اور تیری رضا حاصل کر سیکس سینه سیح موعود کے علم کلام کی شاندار فتح جیساکہ سلسلہ احمدیہ کی ابتدائی تاریخ سے تاب ہے ست نفر مسیح موجودہ کے شیخ و زر علایم محمود شلتوت کا فتوی دنات یخ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعوئی مسیحیت علیه السلام کے بعد دنیائے اسلام کے سامنے جو مخصوص علم کلام پیش فرمایا اس میں نظریہ و نات کیے کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔یہی وجہ ہے کہ شاہ سے یعنی اس زمانہ سے جبکہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ الہا کا انکشاف ہوا کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کر نہ عدہ کے موافق آپ آئے ہیں مخالفت علماء نے نہ صرف آپ پر فتوئی گھر لگایا بلکہ بڑے زور شور سے مسئلہ حیات مسیح کی تائید کے لئے مناظروں کا بازار گرم کر دیا اور اپنے موقف کی تائید میں پے در پے کرتا ہیں اور رسائل شائع کرنے لگے۔یہ علمی جنگ پوری شدت سے جاری تھی کہ اس سال مشرق وسطی کے بعض مسلم ممالنگ سے یکا یک وفات مسیح کے حق میں ایک مفصل فتوئی شائع ہو گیا جس نے قائلین حیات مسیح کے کیمپ میں زبردست کھلبلی مچادی۔م القضا شهادت ها صفحه + کے ازاله او نام طبع اول صفحه ۵۶۱-۵۶۲ پریل ۱۵۴۲ و