تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 305 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 305

۲۹۵ نہیں ، جناب مولوی صاحب موصوف نے مسلمانوں کی اس ناگفتہ بہ حالت کا علاج یہ تجویز کیا کہ حکومت انگریزی ایک مذہبی صیغہ تائم کرے جس کا ناظم اعلیٰ شیخ الاسلام ہو جو مسلمانوں کے انتخاب اور حکومت کی منظوری سے مقرر کیا جائے اور تنخواہ دار ہو۔چنانچہ انہوں نے لکھا :- اسلام کی گذشتہ روایات اور موجودہ رسومہ جاریہ کے مطابق مسلمانوں کیلئے ایک نہ ہی صیغہ ہندوستان میں قائم کیا جائے جس کا اعلی عہدیدار شیخ الاسلام مو جس کی عزت اور وقار سرکاری طور سے اعتراف کیا جائے اس کو ایک بڑی تنخواہ دے کر اس کے اعزاز کو بڑھایا جائے۔اُس کا تقرر مسلمان جماعتوں کے انتخاب اور گورنمنٹ کی منظوری سے ہو۔اس کے ماتحت صوبوں میں اور صوبوں کے ماتحت ضلعوں میں اس کے عہدیدار ہوں جو اپنے حدود کے انتظامات کریں “ اس مضمون کے آخر میں لکھا : گورنمنٹ کی اعانت کے بغیر یہ کام انجام نہیں پا سکتا ہے اس مضمون کی اشاعت پر اخبار الفضل نے اپنی ۲۴ ماه شهادت ها ۱۳ (۲۳ اپریل ۱۹۳۲ء) کی است میں ایک ادارتی نوٹ لکھا جس میں اس تجویز کو غیر معقول اور ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے بتایا کہ : دمی جو وہ غیر مسلم حکومت کی قائم کردہ عدالتیں تو اکثر علماء کے نزدیک اس بات کی مجاز نہیں کہ نے سلمانوں کے کسی جھگڑے کا فیصلہ کریں لیکن اس کا مقدر گردہ اور اس کا تنخواہ دار شیخ الاسلام مسلمانوں کو دین دونیا کی برکات سے مالا مال کر دے گا۔اُن کی مسجدوں کو آباد کر دے گا۔اُن کے اماموں اور موزیک کی اصلاح کردے گا اور اُن کے ہر قسم کے جھگڑے فساد مٹاکر انہیں اسلام کی اصل تعلیم کا پابند بنا دے گا۔یہ سب کچھ سہی مگر سوال یہ ہے کہ ایسا انسان حکومت کہاں سے ڈھونڈ کر لائینگی اگر ایسی تابعیت اور اس قسم کی استعداد رکھنے والا کوئی انسان ہندوستان کی سرزمین میں موجود ہی نہیں جو مسلمانوں کی اصلاح کا بیڑا اٹھا سکے اور ان کی پراگندگی اور انتشار کو دور کر کے ایک ملک میں منسلک کر سکے۔انہیں اسلامی تعلیم پر چلا سکے تو حکومت کیونکر مہیا کرے گی۔لیکن اگر کوئی موجود ہے تو کیا وہ کسی گوشہ تنہائی میں میٹھا اس بات کا انتظار کر رہا ہے کہ گورنمنٹ انگریزی اس کی عزت اور وقار کا سرکاری طور پر اعتراف کرے اور اُس کو ایک بڑی تنخواہ دے کر اس کے اعزاز کو پڑھائے تب وہ نمودار ہو اور پھر مسلمانوں کی دینی اصلاح کی طرف متوجہ ہو۔ظاہر ہے کہ یہ شان کسی دینی مصلح بحواله انفضل ۲۲ر شہادت هر ۱۳۷۱ (۲۳ اپریل ۱۹۳۳ ۶ صفحه ۱ + +1