تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 10
اور تاریخ دونوں کا ذکر ہوتا ہے۔اس کے بعد یہ بحث پیدا ہوئی کہ سنہ کی ابتداء کب سے قرار دی جائے۔حضرت علی نے ہجرت نبوی کی رائے دی اور اسی پر سب کا اتفاق ہو گیا۔آنحضرت نے ربیع الاول میں ہجرت فرمائی تھی۔سال میں دو مہینے آٹھ دن گزر چکے تھے۔اس لئے ربیع الاول سے آغاز ہونا چاہیئے تھا۔لیکن چونکہ عرب میں سال محترم سے شروع ہوتا ہے اس لئے دو پہینے آٹھ دن پیچھے ہٹ کر شروع سال سے سنہ قائم کیا"۔ہجری تقویم کی بنیاد چاند کی تاریخوں پر رکھی گئی تھی۔مگر جیسا کہ قرآن مجید کی ہجری شمسی تقویم کی ضرورت میں اور ہیں لکھنا ہے کہ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانُ یعنی سورج اور چاند دونوں ہی حساب کے لئے مفید ہیں۔اور عقلی طور پر بھی اگر دیکھا جائے تو ان دونوں میں فوائد نظر آتے ہیں چنانچہ عبادتوں کوشش بھی طریق پر چلانے کے لئے چاند مفید ہے۔چاند کے لحاظ سے موسم بدلتے رہتے ہیں اور انسان سال کے ہر حصہ میں اللہ تعالے کی عبادت کرنے والا قرار پا سکتا ہے۔پس عبادت کو زیادہ وسیع کرنے کے لئے اور اس لئے کہ انسان اپنی زندگی کے ہر لحظہ کے لئے کہہ سکے کہ وہ اس نے اللہ تعالے کی عبادت کے لئے گزارا ہے۔عبادت کا انحصار قمری مہینوں پر رکھا گیا ہے لیکن وقت کی صحیح تعیین کے لئے سورج مفید ہے اور سال کے اختتام یا اس کے شروع ہونے کے اعتبار سے انسانی دماغ سُورج سے ہی تسلی پاتا ہے۔ہجری شمسی تقویم جاری یہی وہ ضرورت تھی جس کی وجہ سے ہجری تقویم کے اجراء کے بعد قرن اول کے مسلمان بادشاہوں میں یہ خیال بڑی شدت سے اُٹھا کہ ہجری کرنے کی اسلامی کوششیں تری کی طرح ہجری شمس بھی ہونی چاہیئے۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ خلفائے عباسیہ مثلاً ہشام بن عبد الملک، ہارون الرشید ، معتضد باللہ، متہ کل القائع بلہ نے ہجری شمسی تقویم جاری کرنے کی پے در پے کوششیں کیں ہیے مگر اس میں بعض رکا وٹیں پیدا ہوگئیں۔ازاں بعد ہوگئیں۔ازاں بر دولت عثمانیہ نے شام میں تقویم بنائی مگر وہ کا رائج نہ ہوسکی۔وه مله " الفاروق جلد دوئم صفحه ۲۰۳ - ۲۰۴ ۱ تا شر شیخ غلام علی اینڈ سنز پبلشرز کشمیری بازار لاہور بہ ل سورة الرحمن آیت ۵ پاره ۲۷ به سے تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو " تقويمنا الشيسي» ( از محب الدین خطیب ) صفحه ۱۰ تا ۱۵- (ناشر المطبعة السلفيه ومكتبتها " قاهره ۱۳۴۷م :