تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 285 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 285

تو معلوم ہوا کہ یہ کوئی محفوظ جگہ نہیں۔چاہے یہ دوست ہی ہیں لیکن بہر حال اگر دوست کو ایک مقام کا علم ہو سکتا ہے تو دشمن کو بھی ہو سکتا ہے۔محفوظ مقام تو نہ رہا۔چنانچہ خواب میں میں پریشان ہوتا ہوں اور میں کہتا ہوں کہ ہمیں پہاڑوں میں اور زیادہ دور کوئی جگہ تلاش کرنی چاہیے۔اتنے میں میں نے دیکھا کہ شیخ محمد نصیب صاحب آگئے ہیں۔میں اس وقت مکان کے دروازے کے سامنے کھڑا ہوں۔انہوں نے مجھے سلام کیا۔میں نے اُن سے کہا کہ لڑائی کا کیا حال ہے۔انہوں نے کہا۔دشمن غالب آگیا ہے۔میں کہتا ہوں مسجد مبارک کا کیا حال ہے۔انہوں نے اس کا یہ جواب دیا کہ مسجد مبارک کا حلقہ اب تک لڑ رہا ہے۔میں نے کہا کہ اگر مسجد مبارک کا حلقہ اب تک لڑرہا ہے تب تو کامیابی کی امید ہے۔میں اس وقت سمجھتا ہوں کہ ہم تنظیم کے لئے رہیں اورتنظیم کرنے کے بعد دشمن کو پھر شکست دے دیں گے۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ کچھ اور دوست بھی وہاں پہنچ گئے ہیں۔اُن کو دیکھ کر مجھے اور پریشانی ہوئی اور میں نے کہا کہ یہ تو بالکل عام جب گہ معلوم ہوتی ہے۔حفاظت کے لئے یہ کوئی خاص مقام نہیں۔ان دوستوں میں ایک حافظ محمد ابراہیم صاحب بھی ہیں۔اور لوگوں کو میں پہچانتا نہیں صرف اتنا جانتا ہوں کہ وہ احمد ہی ہیں۔حافظ صاحب نے مجھ سے مصافحہ کیا اور کہا کہ بڑی تباہی ہے۔بڑھی تباہی ہے۔پھر ایک شخص نے کہا کہ نیلے گنبد میں ہم داخل ہونے لگے تھے گروہاں بھی ہیں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔میں نے تو نیای گنبد لا ہور کا ہی شنما ہوا ہے۔اگر اعظم کوئی اور بھی ہو۔بہر حال اس وقتہ میں نہیں کہ سکتا کہ نیلے گنبد کے لحاظ سے اس کی کیا تعبیر ہو سکتی ہے البتہ اس وقت بات کرتے کرتے میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا ہے کہ نیلا سمندر کا رنگ ہوتا ہے۔اس کے بعد حافظ صاحب نے کوئی و نفعه بیان کرنا شروع کیا ند ا سے بڑی نبی طرز سے بیان کرنے لگے جس طرح بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بات کو جلدی ختم نہیں کرتے کہ اسے بلا وجہ طول دیتے چلے جاتے ہیں۔اسی طرح حافظ صاحب نے پہلے ایک لمبی تمہید بیان کی اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ جالندہر کا کوئی واقعہ بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہاں بھی بڑی تباہی ہوئی ہے اور ایک منشی" کا جو غیر احمدی ہے اور پٹواری یا گرداوری