تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 276
نہیں ہے کہ اس جماعت کے پیشوا سے لیکر افراد تک جن کی تعداد ہندوستان اور بیرون ہندمیں لاکھوں تک کہ برطانوی حکومت ساتھ کسقدر وفاداران دوستی رکھتے ہیں ان میں ہزار اس کی سیاسی اور غیرسیاسی را شر ہی ہوتی این درختم ہو جاتی ہیں۔ہماری تحریکات ایسی ہوتی ہیں جن کا براہ راست اثر حکومت پر بھی پڑتا ہے لیکن جماعت احمدیہ کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جس سے یہ اندازہ ہو کہ اس نے کسی ایسی تحریک ی حصہ لیام موجوحکومت کی منی نفت میں پیش کی جاسکے بلکہ یہ جماعت ہمیشہ حکومت کی ایک از مرد و خوار جلالت ہی کی ایسی وفادار کہ جس کی کوئی مشکل نہیں پیش کی جا سکتی۔پھر اس جماعت کے قائلہ کے ساتھ یہ توہین آمیز رویہ نا جائز اور غیر قانونی جیسا کہ مختلف اخبارات سے ظاہر ہوتا ہے یہ طریقہ اختیار کرنا ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم پولیس کے ایسے ناروا طریقہ پر اظہار رنج کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔حکومت پنجاب کا یہ فرض ہو جاتا ہے کہ وہ ان واقعات کی تحقیقات خاص طور پر کرائے ورنہ جب پولیس حکومت کے ایک ایسے وفادار دوست کے ساتھ یہ سلوک کر سکتی ہے تو پھر ظاہر ہے کہ اس کی رو سے کسی اور کا دامن کیسے بیچ سکتا ہے۔اصل میں ان لوگوں کی تلاش کرنا چاہیے جو اس قسم کی شرارتیں کرتے ہیں جن کی زندگی ہی ایسے مہنگاموں کے لئے وقعت ہے۔اخبار الفضل " میں اس واقعہ کی جو تفصیل دی گئی ہے وہ کافی بے چینی پیدا کرنے والی ہے اور اس جماعت کے پیرووں میں تو یقیناً بہت زیادہ بے چینی ہوگی۔اس لئے حکومت کو بھی جلد از جلد اس سلسلہ میں اپنی پوزیشن کی وضاحت کر دینا چاہیئے یہ ھے حکومت پنجاب کی طرف سے واقعہ ڈلیوری کی نسبت جماعت احمدیہ اور حکومت کے کی درمیان نو ماہ تک خط و کتابت جاری رہی حکومت نے کمشنر صال ہو کو معذرت کرنے کی ہدایت تحقیقات بھی کرائی اور پھر پولیس کے ڈی۔آئی۔جی نے بھی تفتیش کی ہے بعد ازاں شہادت ها ۱۳ اپریل ۹۷اہ میں کشتر صاحب لاہور کو اس غرض کے لئے مقرر کیا کہ وہ اس معاملہ میں حضرت امام جماعت احمدیہ کے پاس اظہار افسوس کریں۔چنانچہ کشتر صاحب لاہور گورداس پور آئے اور اُن کی چٹھی حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خدمت میں آئی کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔کیا آپ مجھے یہاں اگربیل سکتے ہیں ؟ اگر آپ نہیں سکتے ہوں تو اپنے کسی رشتہ دار کو ہی بھجوا دیں تم الفضل تو میر ۶۱۹۴۱ بیرت ها صفرا کالم >14ft