تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 277 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 277

۲۶۸ کیونکہ گورنمنٹ کی طرف سے میں ایک پیغام لایا ہوں جو آپ کو پہنچانا چاہتا ہوں۔حضور کو قبل از وقت معلوم ہو چکا تھا کہ کمشنر صاحب لاہور اس غرض کے لئے آنے والے ہیں۔چنانچہ حضور نے انہیں کہلا بھیجا کہ مجھے اگر آپ سے ملاقات کی ضرورت ہوتی تو میں خود آپ کے پاس آتا مگر چونکہ کام آپ کو ہے اس لئے میرے آنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔اگر کسی افر کو مجھ سے کوئی کام ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ میرے پاس آئے نہ یہ کہ میں آگرہ کے پاس جاؤں۔باقی مجھے معلوم ہے کہ آپ کیا کہنا! چاہتے ہیں اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ گورنمنٹ کی طرف سے آپ کو واقعہ ہوزی پر اظہار افسوس کر کے لئے بھیجا گیا ہے۔گر آپ مجھے یہ بتائیں کہ وہ واقعہ گورنمنٹ کی نادانی سے پریس میں آچکا اور مارے ہندوستان میں مشہور ہو چکا ہے۔اب اگر میں یہ اعلان کر دوں کہ گورنمنٹ نے اپنی غلطی کا ازالہ کر دیا ہے اور اس نے اپنے فعل پر اظہار افسوس کیا ہے تو دشمن ہنسے گا اور کہے گا کہ خودہی ایک بات بنائی گئی ہے دینہ گورنمنٹ نے اظہار افسوس نہیں کیا۔جیسے ہماری پنجانی زبان میں ضرب المثل ہے کہ آپے میں رقی بچتی آپنے میرے بچے جیون اگر گورنمنٹ اس فعل پر اظہار ندامت کرنا چاہتی ہے تو اسے چاہئے کہ تحر یا کرے تاکہ دنیا کے سامنے اس تحریر کو رکھا جاسکے" کمشنر صاحب لاہور نے اس پیغام کے جواب میں کہلا بھیجا کہیں تو ایسی تحریر نہیں دے سکتا کیونکہ مجھے اجازت نہیں البتہ میں گورنمنٹ کو آپ کی یہ بات پہنچا دونگا ہے چنانچہ کشتر صاحب لاہور کی رپورٹ پر حکومت پنجاب حکومت پنجاب کا تحریری معذرت نامه نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خدمت میں تحریری طور پر معذرت نامہ بھیجا۔اس سلسلہ میں حکومت پنجاب کے ہوم سیکرٹری (ایف بی وین ) نے جو چھی لکھی اُس کا ترجمہ درج ذیل کیا جاتا ہے :- نمبر ۲۹۵۲ - ایچ (جی) ۴۲/۲۶۳۹۵ منجانب ایف بی دلیس بی آئی ای آئی سی ایس ہوم سیکرٹری حکومت پنجاب بنام خلیفہ اسیح حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدید له الفضل اجرت ها مصوبه قاریان ضلع گورداسپور مئی ۶۱۹۴۲