تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 274
۲۶۵ کے ساتھ کوہ ڈلہوزی پر جہاں آپ بغرض تبدیل آب ہوا معہ اپنے متعلقین کے مقیم تھے پنجاب پولیس کی جانب سے غالباً پنجاب سی آئی ڈی کی کسی رپورٹ کی بناء پر بہت ہی نازیبا اور قابل اعتراض برتاؤ کیا گیا۔۔۔۔۔۔اگر کسی اور جماعت کے لیڈر کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا گیا ہوتا تو ہمارا خیال ہے کہ اس وقت ہندوستان میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک ایسی آگ لگ چکی ہوتی جو آسانی سے بھائی نہیں جا سکتی تھی۔۔۔عام مسلمانوں کو احمدی جماعت سے عقائد میں یقیناً اختلاف ہے لیکن اس وقت ہم میں واقعہ کا ذکر کر رہے ہیں وہ ان عقاید کے سوال سے بالا ہے اور یہ وہ امور ہیں جن پر سب کو متفق ہو کر پنجاب گورنمنٹ کے اس نا زیبا نعل کےخلاف صدائے احتجاج بلند کرنا چاہیے۔کیونکہ ایک ایسی حکومت کے لئے میں کا وزیر اعظم ایک مسلمان ہو اس قسم کے امور ضرور شرمناک کہے جائیں گے۔یہ ایسی بات ہے جس کے بارے میں اگر احتجاج نہ کیا گیا تو کسی بڑے سے بڑے ہندوستانی بیڈ کی عزت اور آبرو محفوظ نہ رہے گی۔واقعہ یہ ہے کہ اس قسم کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب سر سکندر کی حکومت میں ہندوستان کے سو سے زیادہ امام اشعار دفدار اور پابند قانون جماعت کے لیڈر کے ساتھ ایسا انسانیت سوز برتاؤ ہو سکتا ہے تو پھر کانگرسی رہنماؤں ہے کیا کچھ سلوک نہ ہوتے ہونگے۔کاش! اسی واقعہ سے احمدیوں کو اس بات کا احساس ہو جائے کہ اس زمانہ میں حکومت کی وفاداری اور اطاعت شعاری کی نہ تو پبلک میں کچھ قدر ہے اور نہ خود گورنمنٹ کی نظروں میں کچھ وقعت ہے لہ نیشنل پھیر لٹ" لکھنو : لکھنو کے موقر انگریزی جریدہ نیشنل ہیرلڈ نے لکھا:۔ڈیفنس آف انڈیا رولز کا ایسا غلط استعمال بہت خطرناک ہے اور حکومت کا فرض ہے کہ اس کا انسداد کرے۔یہ بالکل غلط اصول ہے کہ جس کسی کے نام کوئی باغیانہ لٹریچر ڈاک میں آئے اُسے مجرم گردان لیا جائے اور اُس کی وفاداری کے گذشتہ ریکارڈ کو بالکل نظر انداز کر دیا جائے۔یہ بات واضح ہے کہ ڈیفنس آف انڈیا رو از پاس کرتے وقت نجسلیچر کا منشاء وہ نہ تھا جو پنجاب پولیس سے رہی ہے ا سکے ا افضل دارای صفحه ۳ ۰ ۵۲ الفضل ها را فاد هنگان در رده در اکتوبر ۱۹۲۳ پیر صفحه ۳ ۶ - ۶۱۹۴۱