تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 272
۲۶۳ کے کسی فرد پر بعض ایک پیکٹ کے وصول ہونے کی وجہ سے سنڈیشن کا شبہ کیا جا سکتا ہے اور مرز اعضا ایسی پوزیشن کے بلند مرتبت بزرگ کے ساتھ پولیس کے معمولی سپاہی بد سلوکی سے پیش آسکتے ہیں تو پھر کسی بھی شخص کی عزت محفوظ نہیں سمجھنی چاہئیے۔حکومت کو چاہیے کہ اس معاملہ کو معمولی سمجھ کر ٹال کرنی ہے بلکہ کسی خاص افسر کے ذریعہ اس کی تحقیقات کروائے اور اس سازش کا پتہ لگا کہ جس کے ذریعہ مرزاصات کو نقصان پہنچانے کی مذموم حرکت کی گئی۔سازش کنندگان کو قرار واقعی سزائیں دے تاکہ آئندہ کسی کو اس قسم کی جسارت کی جرات نہ ہو سکے۔ہماری رائے میں بلالحاظ مذہب و ملت ہر جماعت الیور تور دار اختیار کو اس واقعہ کی جو مرزا صاحب قادیان کے ساتھ پیش آیا پر زور الفاظ میں مذمت کرنی چاہیئے۔کیونکہ اسے اگر نظر انداز کیا گیا تو اس قسم کے واقعات بڑی سے بڑی پوزیشن کے مذہبی اور کس سیاسی ہنما کے ساتھ پیش آسکتے ہیں۔اخبار حق لکھنو :۔لکھنؤ کے اخبار حق نے ہا شمیر اور کی اشاعت میں جماعت احمدیہ کی توہین " کے عنوان سے حسب ذیل نوٹ لکھا:۔اگر یہ اطلاع صحیح ہے تو ہم گورنمنٹ پنجاب سے یہ پوچھنے کا پورا حق رکھتے ہیں کہ ایک ایسی محترم اور باعث عزت شخصیت کے خلاف کہ جو ایک طاقتور جماعت کا سردار اور امیر ہے اور میں کی شخصی اور جماعتی و فاداری حکومت کے ساتھ ضرب المثل کا درجہ رکھتی ہے اُس کے ہونہیں نے اس قسم کا اہانت آمیز برتاؤ کیوں کر گیا۔اور کس کے حکم سے اس جماعت کے بارے میں ظاہر ہے کہ یہ شبہ تو ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ اس کا کوئی فرد چہ جائیے کہ اس کا خود امیر حکومت کے خلاف کسی با خیانہ لٹریچر کی نشر و اشاعت کا سبب بن سکتا ہے۔اس لئے کہ نہ فر مسابقہ موقعوں پر بلکہ موجودہ جنگ میں بھی ان کا گورنمنٹ برطانیہ کے ساتھ اتحاد عمل اور اتحامی حکومتوں کی تائید میں اُن کا پروپیگنڈا ہر ایک کے علم میں ہے۔اور اگر اس کے باوجود بھی کسی ایسی نماز و محرم شخصیت کے ساتھ حکومت پنجاب اس قسم کے طرز عمل کو جائز قرار دے سکتی ہے تو ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ کسی دوسرے کو اس سے کیا توقع رکھنی چاہیے۔اور یہ بھی تو دیکھے کہ انصاف اور قانون کے کس ضابطہ اور اصول کے ماتحت ایسے شخص کو کہ میں کا وفاداری کا ریکارڈ اتنا مه SEDition، فساد، الغاوت بلوہ حکومت کے خلاف اشتعال انگیزی۔