تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 271 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 271

کوئی آئین پسند انسان اختلاف نہیں کر سکتا۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جس شخص کے نام کوئی شخص خلافت آئین لٹریچر بھیج دے اُسے معا مجرم سمجھ لیا جائے اور اس کی زندگی کے محکم حقائق کی طرف سے آنکھیں بالکل بند کرنی جائیں۔یہ طرز عمل سراسر غلط اور دل آزار ہے۔حکومت پنجاب کا فرض ہے کہ وہ اس واقعہ کی مناسب تلافی کرے اور آئندہ کے لئے قانون کے صحیح استعمال کے متعلق تمام لوگوں کو یقین دلانے کی یہ کم سے کم صورت ہے۔عالمہ مرزا صاحب یا ان کی جماعت کا نہیں بلکہ ہر نہ دوستانی کو اس کے ساتھ گہرا تعلق ہے نیلے اخبار پارس " لاھور : - لاہور کے ہندو اخبار "پارس" نے امیر جماعت احمدیہ سے بدسلوکی کے عنوان ۲۷ ستمبر ر ہ کی حسب ذیل اداریہ لکھا: ایک مذہبی پیشوا کی حیثیت سے مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو ملک میں جو قابل رشک پوزیشن حاصل ہے اُس سے ہر شخص واقف ہے۔جماعت احمدیہ کے ہر فرد کے لئے اُن کا لفظ حکم کا درجہ رکھتا ہے۔وہ ایک ایسی جماعت کے رہبر ہیں جس کے بانی نے بادشاہ وقت کی اطاعت کو ایک اصول کا درجہ دیا۔حکومت برطانیہ کی وفاداری اور اس سے دوستی کو جماعت مذکور نے اپنا فرض قرار دیا جس کیلئے اُسے اپنے ہم وطنوں کے طعن وتشنیع برداشت کرنے پڑے۔گذشتہ اور موجودہ جنگ میں مرزا صاحب اور اُن کے پیرو کان نے حکومت کی مالی اور بھرتی کے سلسلہ میں جو مدد کی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن اُن کے ساتھ حکومت کے کارندوں کی طرف سے جو نا مناسب سلوک روا رکھا گیا ہے وہ راس قابل نہیں کہ جسے آسانی سے نظر انداز کیا جائے۔مرزا صاحب موصوف کو ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ کے استعمال پر اپنے ساتھ پیش آمدہ مذکورہ بالا واقعہ سے کس قدر ذہنی تکلیف ہوئی ہے اس کا اندازہ اُن کے ذیل کے تلخ الفاظ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔آپ اپنے خطیہ کے دوران میں فرماتے ہیں۔( اگے حضور کے خطبہ سے اقتباس دیا گیا۔نائل) جہاں ہمیں اس رنجیدہ معاملہ یں خلیفہ صاحب قادیان سے دلی ہمدردی ہے وہاں ہم حکومت کے اس نظام کی خامیوں پر ماتم کئے بغیر نہیں رہ سکتے جس کی رو سے ایک ایسی جماعت کے پیشوا کی توہین ہوئی جو حکومت برطانیہ کی بہت بڑی مددگار اور دوست سمجھی جاتی ہے۔اگر مرزا صاحب کے خاندان ها لتصل در توک هند تمبو صفورا کالم * نیوک