تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 264 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 264

۲۵۵ حرکت کی ہے۔یہ باتیں سنگر میں بھی نیچے اتر آیا اور میں نے ان کے سامنے تمام پہلی باتوں کو دہرانا شروع گیا میں نے کہا کہ اس طرح خلیل احمد کے نام ایک پیکٹ آیا تھا جوئیں نے درد صاحب کو اس لیئے دیا کہ وہ گورنر صاحب پنجاب کو بھجوا دیں۔انہوں نے درد صاحہ ہے وہ پیکٹ چھین لیا۔اور پھر انہو نے تھانے میں کوئی جھوٹی رپورٹ بھیج دی جسپر مسلم پولیس آگئی۔پھر میں نے ان سپاہیوں سے کہا کہ یہ جو مسلح پولیس آئی ہے یہ ضرور کسی تمہاری رپورٹ کے نتیجہ میں آئی ہے۔تم نے لکھا ہوگا کہ یہ لوگ ہیں مارنے اور منتقل کرنے کے درپے ہیں۔یقینا تم نے ایسا ہی لکھا ہے ورنہ تھانے والوں کو کیا پڑی تھی کہ وہ سلح پولیس یہاں بھیج دیتے۔پھر میں نے اُن سے کہا کہ جب درد صاحب سے تم نے پیکٹ چھینا تھا تو گیا اس سے تمہاری غرض یہ نہیں تھی کہ تم یہ بات بنا سکو کہ تم نے یہ پیٹ فیل سے لیا ہے۔اس پر وہ کہنے لگے جس طرح آپ نے کوئی بات بنائی تھی اسی طرح ہم نے بھی کوئی بات بنائی ہی تھی۔یہ باتیں انہوں نے ان ڈپٹی کمشنر صاحب کے سامنے کیں۔اور میں نے بھی ان سے اس لئے کہلوائیں تاکہ وہ ڈپٹی کمشنر صاحب ان باتوں کے گواہ بن جائیں اگو ئی نہیں کر سکتا ان باتوں میں سے انہوں نے کتنی منیں کی نکہ اس وقت مختلف باتیں ہو رہی تھیں۔اسی طرح ابھی ڈپٹی کمشنر صاحب نہیں آئے تھے کہ مجھے نیچے سے ایک سپاہی کی آواز آئی جو دو سرے سپاہی سے بات کر رہا تھا۔معلوم ہوتا ہے کوئی سپاہی بدنیتی سے اندر آنا چاہتا تھا کہ ہمارے آدمیوں نے اُسے اندر داخل ہونے سے روک دیا۔اس پر دو سر انسپاہی اُسے کہنے لگا۔۔ایدھر آجا اوئے انہاں دا کی اعتبار ہے جوچاہ میں گل بنائیں۔" یعنی ان کا کیا اعتبار ہے ان کا جو جی چاہے گا ہمارے خلافت بات بتائیں گے۔گویا ہمارے سب لوگ جھوٹے تھے اور وہ لوگ جو روزانہ جھوٹی قسمیں کھاتے اور ہمارے سامنے جھوٹ بول رہے تھے وہ بچے تھے۔خیر ان ڈپٹی کمشنر صاحب نے کچھ دیر اُن سے باتیں کرنے کے بعد مجھ سے کہا کہ ان سپاہیوں سے باتیں کرنی فضول ہیں ان میں کوئی افسر نہیں ہے اور نہ ہی ان کا کوئی اختیار ہے۔آپ کو چاہئے کہ ضلع گودی پور کے ڈپٹی کمشنر صاحب کی طرف آدمی بھیجوا دیں اور انہیں ان تمام حالات سے اطلاع دیں۔میں نے کہا۔اس کا ئیں نیند کرا چکا ہوں۔ڈپٹی کمشنر صاحب اور سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس دونوں اس وقت با ہرائیں اسی وجہ سے ہم حیران ہیں کہ یا کہیں۔انہوں نے کہا کہ پھر یہ جو انٹیل یا سیڈ کی ٹیبل میں ان سے بات کرنی فضول ہے انہیں دیکھے کہ تویہ بھی پتہ نہیں لگتا کہ ان کا افسر کون ہے۔پھر انہوں نے کہا۔